اسلام آباد(بین الاقوامی میڈیا)پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان اہم مذاکرات کی میزبانی سے قبل غیرمعمولی سیکیورٹی نافذ کر دی گئی ہے۔ دارالحکومت اور ملحقہ راولپنڈی میں پاک فوج تعینات ہے اور اہم علاقوں میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
نور خان ایئر بیس پر دو گھنٹے قبل یو اے ای کا سی-130 طیارہ اترا، جس کے ایک گھنٹہ بعد امریکی سی-17 طیارہ بھی پہنچا۔ قطر سے مزید سی-17 طیارے اہم وفود کے ساتھ اسلام آباد پہنچنے کی توقع ہے، جو بڑے سفارتی آپریشن کے آغاز کی علامت ہیں۔ کل ایران اور امریکہ کے وفود باضابطہ طور پر مذاکرات کیلئے پاکستان کا دورہ کریں گے۔
حکام نے اعلان کیا ہے کہ بدھ سے شہر میں بھاری گاڑیوں کے داخلے پر سخت پابندیاں ہوں گی، گاڑی مالکان سے کہا گیا ہے کہ وہ پولیس کی ہدایات پر مکمل عمل کریں تاکہ ٹریفک رواں رہے۔ شہری تازہ ترین معلومات کے لیے ٹریفک ہیلپ لائن 1915 پر رابطہ کر سکتے ہیں یا اسلام آباد پولیس کے سوشل میڈیا چینلز دیکھ سکتے ہیں۔
سرینگر ہائی وے جزوی طور پر موڑ دیا گیا ہے تاکہ غیر ملکی وفود کی آمدورفت کو آسان بنایا جا سکے۔ اسلام آباد ٹریفک پولیس ٹریفک کے انتظام کے ساتھ شہریوں کی رہنمائی کر رہی ہے۔ حکام نے عوام سے تعاون اور سرکاری چینلز سے باخبر رہنے کی تاکید کی ہے۔

شہر کے ریڈ زون میں صرف سرکاری گاڑیوں کو اجازت ہے۔ ٹریفک پابندیاں سختی سے نافذ کی گئی ہیں اور اہم سڑکوں پر اہلکار تعینات ہیں تاکہ آمدورفت کنٹرول ہو اور غیر ضروری سفر روکا جا سکے۔
غیر ملکی وفود کی میزبانی کیلئے ایک نجی ہوٹل منتخب کیا گیا ہے، جبکہ دیگر بین الاقوامی مہمان قریبی ہوٹلوں میں قیام کریں گے۔ متعلقہ رہائشیوں سے فوری طور پر خالی کرنے کو کہا گیا ہے اور مرکزی ہوٹل تک جانے والی سڑکوں پر کنٹینرز لگا کر راستے بند کر دیے گئے ہیں۔

وفود کیلئے مخصوص ٹرانسپورٹ کورڈور بھی بنائے گئے ہیں تاکہ ہوائی اڈے اور ہوٹلوں کے درمیان آمدورفت ممکن ہو۔حکام الرٹ ہیں اور اسلام آباد میں یہ سب سے منظم سیکیورٹی آپریشنوں میں سے ایک تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کوشنر امریکہ کے وفد کی قیادت کریں گے۔ ایران کی جانب سے اعلیٰ سفارتکار عباس عراقچی اور پارلیمنٹ اسپیکر باقر قالیباف کی آمد متوقع ہے جبکہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار بھی مذاکرات میں شامل ہوں گے۔

صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ وٹکوف اور کوشنر مذاکرات میں شریک ہوں گے جبکہ نائب صدر وینس سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے شریک نہ ہو سکیں۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے مذاکرات سے قبل دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا، جو اس خطے میں 28 فروری کو ہونے والے امریکی-اسرائیلی حملے کے بعد سامنے آئی، جس میں 1,400 سے زائد افراد، بشمول سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای، شہید ہوئے۔ ایران نے اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے کے ذریعے ردعمل دیا تھا۔

