امریکا، ایران مذاکرات ناکام،ڈیل کے بغیر واپس جا رہے ہیں: جے ڈی وینس

اسلام آباد( رائٹرز، اے ایف پی، بی بی سی، الجزیرہ)امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے اور وہ بغیر کسی ڈیل کے واپس امریکا جا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکی شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا، اگرچہ مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی گئی اور امریکا کی جانب سے لچک بھی دکھائی گئی۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً اکیس گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات میں متعدد اہم امور زیر بحث آئے، جن میں ایران کے منجمد اثاثے اور دیگر حساس معاملات شامل تھے، تاہم کوئی حتمی نتیجہ حاصل نہ ہو سکا۔

جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا نے اپنی شرائط واضح انداز میں پیش کیں اور ایران کو ان حدود سے بھی آگاہ کیا گیا جن پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو تشویش ہے کہ ایران کے پاس یورینئیم افزودگی کی تنصیبات موجود ہیں، اور امریکا چاہتا ہے کہ ایران ایسے وسائل حاصل نہ کرے جن سے وہ جلد جوہری ہتھیار بنانے کے قابل ہو جائے، اسی لیے ایران سے مستقبل میں جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت مانگی گئی تھی۔

امریکی نائب صدر نے کہا کہ مثبت پہلو یہ ہے کہ ایرانی حکام کے ساتھ کئی اہم نکات پر بات چیت ہوئی، تاہم معاہدہ نہ ہونا امریکا کیلئے مایوس کن ہے۔انہوں نے پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف اور عاصم منیر نے امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے اور معاہدے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔

جے ڈی وینس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر وفد نے نیک نیتی سے مذاکرات کیے اور اس دوران صدر ٹرمپ سے متعدد بار رابطہ بھی کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران امریکی قومی سلامتی ٹیم، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام سے بھی مسلسل مشاورت جاری رہی۔