واشنگٹن(ایجنسیاں/ڈی ایس سی اے) امریکا نے پاکستان کے ایف-16 لڑاکا طیاروں کیلئےجدید ٹیکنالوجی، آلات اور لاجسٹک معاونت کی فروخت کی منظوری دے دی ہے، جس کی مجموعی مالیت 68 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہے۔ یہ منظوری امریکی ڈیفینس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے 8 دسمبر کو کانگریس کو بھیجے گئے خط میں دی۔
امریکی اعلامیے کے مطابق فروخت میں لنک-16 ڈیٹا لنک سسٹمز، کرپٹوگرافک آلات، ایویونکس اپ گریڈ، تربیت اور مکمل لاجسٹک سپورٹ شامل ہے۔ ڈی ایس سی اے نے کہا کہ یہ فروخت امریکا کی خارجہ اور قومی سلامتی کی پالیسیوں کے مطابق ہے اور اس سے پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں اور مستقبل کے مشترکہ آپریشنز میں امریکا و اتحادیوں کے ساتھ انٹرآپریبلٹی برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
اعلامیے کے مطابق اس اپ گریڈ سے پاکستان کے ایف-16 بیڑے کی سیکیورٹی، کارکردگی اور عمر میں نمایاں اضافہ ہوگا، جبکہ بلاک-52 اور Mid Life Upgrade طیاروں کی آپریشنل مدت 2040 تک بڑھ جائے گی۔
معاہدے کا مرکزی کنٹریکٹر لاک ہیڈ مارٹن ہوگا، اور اس کے نفاذ کے لیے پاکستان میں کسی اضافی امریکی اہلکار کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ مجموعی پیکیج میں 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کا بڑا دفاعی سازوسامان شامل ہے، جن میں 92 لنک-16 سسٹمز اور 6 غیر دھماکا خیز Mk-82 بم باڈیز شامل ہیں، جبکہ 64 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی مالیت کے آلات میں جدید شناختی نظام، سافٹ ویئر و ہارڈویئر اپ گریڈ، تربیت، سمیولیٹرز، اسپئیر پارٹس اور تکنیکی معاونت شامل ہے۔
امریکا نے کہا ہے کہ پاکستان اس جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور یہ فروخت خطے میں طاقت کا توازن تبدیل نہیں کرے گی۔ پاکستان نے 2021 میں ایف-16 بیڑے کی اپ گریڈیشن کی درخواست دی تھی، جس کا جواب مؤخر کر دیا گیا تھا، تاہم اب اس منظوری سے پاکستان کے ایف-16 بیڑے کی آپریشنل صلاحیتیں اور مجموعی دفاعی تیاری مضبوط ہوں گی۔

