واشنگٹن(غیر ملکی خبر ایجنسی)امریکا نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مبینہ مالی معاون علی انصاری سمیت 13 افراد اور متعدد اداروں کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق دبئی میں مقیم ایرانی بینکر اور کاروباری شخصیت علی انصاری پر الزام ہے کہ وہ پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی حکومتی شخصیات کو مالی معاونت فراہم کرتے رہے ہیں۔
امریکی حکام نے علی انصاری سمیت 13 افراد اور مختلف اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں ایران کے 3 ایکسچینج ہاؤسز اور متعدد مبینہ فرنٹ کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد ایرانی قیادت کی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی محدود کرنا اور ایران کے لیے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذرائع کو مزید محدود کرنا ہے۔

