تہران(ایرانی سرکاری میڈیا، رائٹرز، اے ایف پی)ایرانی سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکی صدر سفارتکاری سے تیسری بار غداری کر رہے ہیں اور ان کے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن مذاکرات کیلئےسنجیدہ نہیں۔
اپنے بیان میں محسن رضائی نے کہا کہ ایران کیخلاف جاری بحری ناکہ بندی اور مذاکرات میں ضرورت سے زیادہ مطالبات ایک بار پھر ثابت کرتے ہیں کہ امریکا کا مقصد حقیقی سفارتکاری نہیں بلکہ دیگر اہداف کا حصول ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس وقت ایران اپنے جوہری پروگرام پر کوئی مذاکرات نہیں کر رہا اور تمام تر توجہ جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اب تک امریکا کے ساتھ کسی قسم کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا، جبکہ آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام سے متعلق فیصلے ایران اور عمان باہمی مشاورت سے کریں گے۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے عمانی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظامی امور اور علاقائی تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران نے اس معاملے پر ہمسایہ ممالک کے ساتھ مشاورت کا خیر مقدم کیا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔

