امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کو اہم نان نیٹو اتحادی قرار دے دیا

واشنگٹن (ایجنسیاں)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا ہے کہ سعودی عرب کو ’اہم نان نیٹو اتحادی‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں بلیک ٹائی عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج رات وہ اعلان کر رہے ہیں کہ امریکا سعودی عرب کو باضابطہ طور پر اہم غیر نیٹو اتحادی کا درجہ دے کر عسکری تعاون کو نئی بلندی تک لے جا رہا ہے، جو ان کے لیے بہت اہم ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ پہلی مرتبہ یہ بتا رہے ہیں کیونکہ سعودی عرب اسے آج کی تقریب تک راز میں رکھنا چاہتا تھا۔ یہ وہ درجہ ہے جو اس سے قبل صرف 19 ممالک کو دیا گیا ہے۔ پولیٹیکو کے مطابق اس فہرست میں اسرائیل، اردن، کویت اور قطر بھی شامل ہیں۔

اس حیثیت سے امریکا کے شریک ملک کو عسکری اور اقتصادی مراعات ملتی ہیں، تاہم اس میں امریکا کی جانب سے کسی قسم کی سلامتی کی ضمانت شامل نہیں ہوتی۔ ٹرمپ نے کہا کہ جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں نے سعودی عرب کو مزید محفوظ بنا دیا ہے۔

عشائیے کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹرمپ کے پُرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تعلقات نو دہائیوں سے قائم ہیں اور آج کا دن دونوں ممالک کے اقتصادی تعاون کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ایسے معاہدوں پر دستخط کر رہے ہیں جو تعلقات کو مزید گہرا کریں گے۔

الگ سے جاری کی گئی وائٹ ہاؤس کی فیکٹ شیٹ میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے ایک تزویراتی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ میں روک تھام کی قوت کو مضبوط کرتا ہے، امریکی دفاعی کمپنیوں کے لیے سعودی عرب میں کام کرنا آسان بناتا ہے اور امریکی اخراجات میں کمی کے لیے سعودی عرب کے نئے مالی تعاون کو یقینی بناتا ہے۔ یہ معاہدہ بظاہر اس نیٹو طرز کے معاہدے سے کم تر ہے جس کی سعودی عرب خواہش رکھتا تھا اور جسے کانگریس کی منظوری درکار ہوتی۔

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ ٹرمپ نے ایف-35 لڑاکا طیاروں کی مستقبل کی فراہمی کی منظوری دے دی ہے اور سعودی عرب نے 300 امریکی ٹینک خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ سعودی عرب نے 48 ایف-35 طیارے خریدنے کی درخواست کر رکھی ہے۔ اگر یہ سودا طے پا گیا تو یہ سعودی عرب کو ایف-35 کی پہلی امریکی فروخت اور بڑی پالیسی تبدیلی ہو گی۔ فی الحال خطے میں ایف-35 رکھنے والا واحد ملک اسرائیل ہے۔

دونوں ممالک نے سول جوہری توانائی پر تعاون کے حوالے سے مذاکرات مکمل ہونے کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ پر بھی دستخط کیے، جس کے بارے میں وائٹ ہاؤس نے کہا کہ یہ طویل المدتی جوہری توانائی شراکت داری کی قانونی بنیاد فراہم کرے گا۔ محمد بن سلمان طویل عرصے سے اس معاہدے کے خواہش مند تھے تاکہ امریکی جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو سکے۔ تاہم پیش رفت اس وجہ سے مشکل رہی کہ سعودی عرب امریکی شرط کے مطابق یورینیم کی افزودگی اور استعمال شدہ ایندھن کی دوبارہ پروسیسنگ سے مکمل دستبرداری پر آمادہ نہیں تھا۔