تہران(فارس نیوز ایجنسی)ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی برقرار رہی تو ایران اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے آبنائے کو دوبارہ بند کر دے گا۔ایرانی خبر ایجنسی فارس سے گفتگو کرتے ہوئے عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکی اقدامات خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں، اور اگر ناکہ بندی جاری رہی تو ایران سخت ردعمل دینے پر مجبور ہوگا۔
اس سے قبل عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ لبنان جنگ بندی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے عارضی طور پر کھول دیا گیا ہے اور جہازوں کی آمدورفت ایک مربوط اور محفوظ راستے کے تحت جاری رہے گی۔
ایران کے اس اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں 12 فیصد جبکہ برینٹ خام تیل میں 13 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد ڈبلیو ٹی آئی 82 ڈالر فی بیرل سے نیچے جبکہ برینٹ 89 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگیا۔
دوسری جانب پاکستان نے حالیہ دنوں میں “اسلام آباد مذاکرات” کے نام سے ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت کی میزبانی کی، جس کے لیے وزیرِاعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا دورہ کیا، جبکہ عاصم منیر ایران پہنچے، جس کے بعد مذاکرات میں مثبت پیش رفت سامنے آئی۔

