اوٹاوا (سی بی سی نیوز، یاہو نیوز کینیڈا، گلوبل نیوز) وزیرِ اعظم مارک کارنی نے وعدہ کیا ہے کہ وہ برٹش کولمبیا کی ساحلی فرسٹ نیشنز (Coastal First Nations) کے نمائندوں سے جلد ملاقات کرینگے۔ چیفوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ شمالی ساحل پر تیل بردار جہازوں کی پابندی برقرار رکھے اور نئی آئل پائپ لائن کے منصوبے سے دستبردار ہو جائے، جو حال ہی میں البرٹا کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے ذریعے زور پکڑ گیا تھا۔
اوٹاوا میں اسمبلی آف فرسٹ نیشنز کے اجلاس کے دوران ریجنل چیف ٹیری ٹیجی نے کارنی سے پوچھا کہ کیا حکومت فرسٹ نیشنز کی زمینوں اور حقوق کا احترام کرے گی اور اقوامِ متحدہ کے اعلامیے (UNDRIP) کے مطابق انہیں حقیقی فیصلہ سازی کا اختیار دے گی۔کارنی نے جواب دیا کہ اُن کے دفتر نے باضابطہ درخواست دے دی ہے اور وہ جلد ملاقات کریں گے۔
اُنہوں نے کہا’’میں جلد از جلد اس ملاقات کا منتظر ہوں۔‘‘تاہم چیفوں نے متنبہ کیا کہ وعدے صرف تب معنی رکھتے ہیں جب ان پر عمل بھی ہو۔گذشتہ 27 نومبر کو کارنی اور البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے توانائی کے شعبے میں ایک مفاہمتی یادداشت (MOU) پر دستخط کیے، جس سے نئی آئل پائپ لائن کے منصوبے کو راستہ ملنے اور ساحلی ٹینکر پابندی میں نرمی کے امکان پیدا ہو سکتے ہیں۔Coastal First Nations نے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شمالی ساحل پر ٹینکر اور نئی پائپ لائن کبھی قبول نہیں ہوں گے۔
اُن کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے ساحلی ماحول، مقامی مچھلیوں، مچھیرے اور کمیونٹی کی زندگی کے لیے خطرناک ہیں۔ چیف ڈونلڈ ایڈگرز نے قرارداد پیش کی کہ پابندی برقرار رکھی جائے اور نئی پائپ لائن کی مخالفت کی جائے۔کارنی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ساحلی کمیونیٹیز کے ساتھ شراکت دارانہ تعلقات استوار کرنا چاہتی ہے، اور رواں بہار میں صاف پینے کے پانی کا قانون متعارف کرائے گی، جس میں وفاقی، صوبائی، علاقائی اور فرسٹ نیشنز کے رہنماؤں کی مشترکہ نشست بھی شامل ہوگی۔چیفوں نے خبردار کیا کہ فرسٹ نیشنز کے حقوق کو نظر انداز کر کے کوئی معاشی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی اور منصوبوں کی منظوری کے معاملے میں وہ متحد رہیں گے۔

