تہران (فارس نیوز ایجنسی)ایران کے شہر بندر عباس کے قریب متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جبکہ اس واقعے کے ساتھ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور مذاکرات بھی تعطل کا شکار بتائے جا رہے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق بندر عباس کے شہریوں نے پیر کے روز صبح کے وقت کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنیں، تاہم حکام کی جانب سے ان کی حتمی نوعیت اور مقام کی تصدیق نہیں کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق اسی دوران آبنائے ہرمز کے قریب سریک اور جاسک کے علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ ایرانی افواج نے خلیج فارس کے علاقے میں ایک مشتبہ ڈرون مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکوں کی آوازیں انتہائی شدید تھیں اور ایسا محسوس ہوا جیسے یہ کسی عسکری اڈے کے قریب سے آئی ہوں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کیلئے قطر میں مذاکرات جاری ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور مرکزی بینک کے گورنر کے قطر میں موجود ہونے کی اطلاعات ہیں جہاں معاہدے کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ’’بامعنی‘‘ ہونا چاہیے، ورنہ کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران بعض علاقوں میں بحری راستوں اور آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال بھی کشیدہ بنی ہوئی ہے۔

