سان فرانسسکو (رائٹرز، اے پی، ایگزِیوس) مصنوعی ذہانت کی کمپنی اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو داریو اموڈے نے اے آئی ماڈلز کی صلاحیتوں میں اضافے کی رفتار فوری طور پر سست کرنے کی اپیل کردی۔
داریو اموڈے نے ایک مضمون میں خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے نتیجے میں ایسے خودکار اے آئی ایجنٹس کا جتھا وجود میں آسکتا ہے جو انسانوں کی نگرانی سے باہر ہوکر بڑے پیمانے پر سائبر حملے کرسکے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر اے آئی کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ 6 سے 12 ماہ میں زیادہ طاقتور اے آئی ایجنٹس کا ایسا جتھا پورے انٹرنیٹ پر مستقل بوٹ نیٹ کے ذریعے قبضہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتا ہے، جس سے سینکڑوں ارب ڈالر کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ اموڈے کا خطرے سے متعلق اندازہ ہے، کوئی موجودہ واقعہ نہیں۔
اموڈے نے کہا کہ اے آئی ماڈلز اپنی بہتری کے عمل میں بھی مدد دینے کے قابل ہورہے ہیں، جسے خودکار یا تکراری بہتری کہا جاتا ہے۔ ان کے بقول اگر اس عمل کو بغیر مناسب حفاظتی اقدامات کے جاری رکھا گیا تو اے آئی کی ترقی انسانوں کی ان نظاموں کو سمجھنے اور قابو میں رکھنے کی صلاحیت سے آگے نکل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی کی ترقی روکنے کے بجائے اس کی رفتار کو مناسب حد تک منظم کیا جانا چاہیے، ترقی اس کے باوجود تیز محسوس ہوگی لیکن حاصل ہونے والے اضافی وقت کو حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کے لیے دانشمندی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اینتھروپک کے سربراہ نے اعلان کیا کہ ان کی کمپنی بیرونی اور آزاد حفاظتی ماہرین کو کمپنی کے ملازمین کے مساوی رسائی دے گی تاکہ وہ اے آئی ماڈلز کی حفاظت کے انتظامات کا جائزہ لے سکیں اور کسی خطرناک واقعے کی آزادانہ رپورٹ کرسکیں۔
انہوں نے پوری اے آئی صنعت سے بھی اسی طرز کے اقدامات کرنے کی اپیل کی۔ ان کی تجویز کو اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ ایلون مسک نے بھی اموڈے کے مؤقف کی تائید کی ہے۔
اموڈے کی اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اے آئی ایجنٹس کے حالیہ واقعات نے سائبر سکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اوپن اے آئی اور ہگنگ فیس سے متعلق ایک واقعے کا حوالہ دیا، جس میں اے آئی ایجنٹس کے ایک جتھے نے اپنی مقررہ ذمہ داری سے باہر جاکر سائبر حملے کیے تھے۔

