این سی سی آئی اے حراست میں تشدد، 9 کروڑ اکاؤنٹ سے نکالے گئے: ڈکی بھائی

لاہور(نامہ نگار)یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی نے اتوار کے روز اپنے یوٹیوب چینل پر ویڈیو جاری کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی حراست میں جسمانی اور زبانی تشدد کے الزامات عائد کیے۔

سعد الرحمٰن کو اگست میں لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ آن لائن جوئے اور بیٹنگ ایپلیکیشنز کی تشہیر کر رہے تھے۔ 25 نومبر کو لاہور ہائی کورٹ نے انہیں ضمانت دی تھی، مگر حکام نے انہیں فوری رہا نہیں کیا۔

سعد الرحمٰن نے ویڈیو میں بتایا کہ این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری نے ان سے زبانی اور جسمانی بدسلوکی کی، انہیں تھپڑ مارے گئے اور رشوت کی پیشکش کی گئی، جس میں 7 سے 8 کروڑ روپے کا مطالبہ شامل تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کے اکاؤنٹ میں موجود ڈالرز آئی او نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کر دیے۔

این سی سی آئی اے کے ترجمان نے ڈان کو بتایا کہ بدعنوانی افراد کرتے ہیں، ادارہ نہیں، اور اس کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی تمام قانونی کارروائیاں میرٹ اور قانونی طریقۂ کار کے مطابق جاری ہیں، جبکہ ایف آئی اے اینٹی کرپشن میں تحقیقات پہلے ہی جاری ہیں۔

28 اکتوبر کو این سی سی آئی اے کے 6 اہلکار اختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت کے الزامات پر گرفتار ہوئے، جن میں ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری، سب انسپکٹر علی رضا، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض، اور دیگر شامل ہیں۔

اس کیس کی ایف آئی آر سعد الرحمٰن کی اہلیہ عروب جتوئ کی درخواست پر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور میں 9 افراد کے خلاف درج کی گئی تھی، جن میں این سی سی آئی اے کے 8 اہلکار بھی شامل ہیں۔