برطانوی یونیورسٹیز کی جانب سے پاکستانی و بنگلادیشی طلبا کے داخلوں پر پابندی

لندن ( غیر ملکی میڈیا رپورٹس) پاکستان اور بنگلادیش سے سیاسی پناہ کی درخواستوں میں اضافے کے بعد 9 برطانوی یونیورسٹیز نے دونوں ممالک کے انٹرنیشنل طلبا کے نئے داخلے معطل کردیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان یونیورسٹیز پر دباؤ تھا کہ صرف حقیقی طلبا کو ہی داخلے دیے جائیں جبکہ پاکستان سے تقریباً 20 فیصد اسٹوڈنٹس کی ویزہ درخواستیں مسترد ہو رہی تھیں۔

رپورٹس کے مطابق یونیورسٹی آف وولور ہیمپٹن نے پاکستان و بنگلادیش سے انڈر گریجویٹ درخواست دہندگان کو قبول کرنا روک دیا ہے جبکہ یونیورسٹی آف ایسٹ لندن نے بھی پاکستان سے بھرتی معطل کر دی ہے۔ دیگر اداروں میں سنڈر لینڈ اور کوونٹری شامل ہیں جنہوں نے بھی پاکستانی و بنگلادیشی طلبا کے داخلے روک دیے ہیں۔

برطانوی سرحدی سلامتی کی وزیر ڈیم انجیلا ایگل نے کہا ہے کہ برطانیہ میں آباد ہونے کے لیے ویزہ سسٹم کو “بیک ڈور” کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ وزارت بارڈر سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ تعلیمی ویزہ کی آڑ میں اسائلم اور امیگریشن کے غلط استعمال کو قبول نہیں کیا جائے گا۔