اوٹاوا (نمائندہ خصوصی)کینیڈا کی پارلیمنٹ میں بل C-22 پر بحث کے دوران اراکین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مؤثر اختیارات دینے کے ساتھ ساتھ شہریوں کی رازداری اور آئینی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
رکن پارلیمنٹ اقرا خالد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقے کے عوام نے اس بل کے دو اہم پہلوؤں کی نشاندہی کی ہے، جن میں پہلا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مؤثر طریقے سے کام کرنے کیلئے ضروری اختیارات فراہم کرنا ہے تاکہ معاشرے کو محفوظ بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ دوسرا اہم پہلو شہریوں کی پرائیویسی کا تحفظ ہے، اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ کسی بھی شہری کو اس کی شکل و صورت یا مذہب کی بنیاد پر نشانہ نہ بنایا جائے۔
اقرا خالد نے مطالبہ کیا کہ بل کو اس انداز میں نافذ کیا جائے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مناسب اختیارات بھی ملیں اور ساتھ ہی شہریوں کے آئینی حقوق اور نجی زندگی کا مکمل تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔
اس موقع پر ہل—ایلمر سے رکن پارلیمنٹ گریگ فرگس نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس بل میں ایسے حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں جو اختیارات کے غلط استعمال کو روکیں گے۔
گریگ فرگس نے بتایا کہ بل کے تحت احکامات پر عدالتی نظرثانی لازم ہوگی جبکہ وزارتی احکامات کو انٹیلیجنس کمشنر کی منظوری بھی درکار ہوگی، جو پارلیمنٹ کا ایک خودمختار افسر ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات اس لیے شامل کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی زیادتی یا اختیارات کے ناجائز استعمال سے بچا جا سکے، اور انہیں یقین ہے کہ ذمہ دار ادارے اپنے فرائض دیانتداری سے انجام دیں گے۔

