آپ بائیکاٹ کریں گے تو بھی عوام کی حقیقی طاقت کو کوئی نہیں روک سکتا
گزشتہ چار سالہ اقتدار کو تاریخ کی بد ترین دور لکھا جائے گا
آج بھی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت نواز شریف کی ہے
نواز شریف کی سیاست ختم ہونے کے نعرے لگانے والے خود تاریخ کے کوڑا دان میں جارہے ہیں
خیبرپختونخوا کےلوگ دیکھتے ہیں،پنجاب کے چھوٹے اضلاع میں بھی الیکٹرک بس پرباعزت سفرکی سہولت دی
اکثر سوچتی ہوں کہ خدمت کی سیاست آسانی سے نہ مٹائی جاسکتی ہے نہ بھلائی جاسکتی ہے
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا نو منتخب ارکان اسمبلی سے خطاب
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ لوگوں کو اصل نقل کا پتہ چل گیا،بیانیے کی سیاست پٹ چکی ہے،جھوٹ کتنی دیر بولا جاسکتا ہے۔نو منتخب ارکان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلم لیگ ن کو ضمنی انتخابات میں فتح سے نواز ا،شکر ادا کرتے ہیں۔ ضمنی انتخاب میں کامیابی پر سینئر پارٹی ممبران اور پوری مسلم لیگ ن کو مبارکباد دیتی ہوں۔ قائدمحمد نواز شریف کا شکریہ ادا کرتی ہوں جو خود نو منتخب ارکان اسمبلی سے ملنے تشریف لائے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بہت اچھی طریقے سے الیکشن کمپئین چلائی۔ میانوالی میں گرین بس پراجیکٹ کے آغاز کرنے گئی تو پتہ چل گیا کہ حقیقی تبدیلی آگئی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہاکہ عوام کے درمیان جانے سے عوامی پسند یا نہ پسند کا پتہ چلتا ہے۔پنجاب کے تمام حلقوں کے ساتھ ہر ی پور میں بھی اللہ تعالیٰ نے فتح سے نوازا۔ پنجاب میں تو ہماری کی حکومت تھی، مگر ہری پور میں بھی مخالف حکمران پارٹی کو شکست دی۔ گزشتہ چار سالہ حکومت اور یاستی دباؤ کے باوجود مسلم لیگ (ن)نے ضمنی انتخابات جیتے۔ ڈسکہ میں الیکشن پر عملہ اور افسر غائب ہوگئے ہمیں ہارا دیا گیا، پھر ہم پہنچے۔
مشکلات کے باوجود سیاسی عمل سے کبھی کنارا کشی اختیار نہیں۔ عوام کو طاقت بنا کر سیاسی عمل میں حصہ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مورثی سیاست کا طعنہ دینے والوں نے بیوی اور رشتہ داروں کو الیکشن میں کھڑا کیا۔ ضمنی انتخاب میں ہر جگہ کمپین چلائی اپنے لیڈر کی تصاویر لگائی اور بائیکاٹ کی منافقت بھی کرتے رہے۔ الیکشن والے دن ان کے کیمپ خالی تھے، ہار گئے تو کہتے ہیں کہ ہمارا کوئی امیدوار نہیں تھا۔ اب عوام ان کے جلسے میں آتے ہیں اور نہ ہی بہکاوے میں، لوگوں کو اصل نقل کا پتہ چل گیا۔ بیانیہ کی سیاست پٹ چکی ہے، کتنی دیر جھوٹ بولا جا سکتا ہے۔چور، ڈاکو، گریبان سے پکڑ لوں اس بیانیہ کے معاشرے پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے لڑائی جھگڑے،بدتمیزی اور بد تہذیبی کا بیانیہ ختم ہوگیا۔
آپ بائیکاٹ کریں گے تو بھی عوام کی حقیقی طاقت کو کوئی نہیں روک سکتا۔ گزشتہ چار سالہ اقتدار کو تاریخ کی بد ترین دور لکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہاکہ چور، ڈاکو، گریبان پکڑنے اور اداروں کو گالم گلوچ والا بیانیہ کب تک چلتا ہے۔ بدتمیزی،گالی گلوچ، خواتین پر آوازیں کسنے کی سیاست گزشتہ دور میں شروع ہوئی۔ مسلم لیگ ن نے بدتمیزی اور گالی گلوچ کے کلچر کو ترقی اور خدمت میں بدل دیا ہے۔ حکمران کو انتقام کی سیاست کی بجائے لوگوں کی زندگی میں آسانی کا سوچنا چاہیے۔ خدمت کی سیاست کو آسانی سے مٹایا نہیں جا سکتا۔ پچھلے چالیس سال کوئی ایسا لیڈر، سیاست دان نہیں آیا جس کو اللہ تعالیٰ نے تین دفعہ پاکستان کا وزیراعظم بنایا۔ منتخب وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کو تین دفعہ سازش کرنے نکالا گیا۔مشرف سے لیکر جنرل تک ہر ایک نے محمد نوا زشریف کے خلاف سازشیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ چالیس سال میں پاکستان کا پہلا رہنما ہے جس کی حکومت آج بھی ہے۔محمد نواز شریف نے گیارہ سال ملک سے جلاوطنی بھی برادشت کی۔ آج بھی پوری آب و تاب سے پاکستان کی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت نواز شریف کی ہے۔
چالیس سال سے نواز شریف کی سیاست ختم ہونے کے نعرے لگانے والے خود تاریخ کے کوڑا دان میں جارہے ہیں۔ نواز شریف صاحب نے کبھی کسی بیٹی یا کسی مخالف کو چور، ڈاکو کے انقلاب سے نہیں نوازا۔ جتنے بھی ترقیاتی کام لانچ کیے جارہے وہ سب نواز شریف صاحب کی مشروط سے کررہی ہوں۔نواز شریف صاحب نے ہر روز عوام کی خدمت، روٹی اور مہنگائی پر قابو پانے کا کہا۔ انہوں نے کہا کہ وراثت میں کبھی گالم گلوچ، گریبان پکڑنا اور گندی سیاست نہیں سیکھایا گیا۔ وراثت میں ہمیں خدمت، عوام کی ترقیاتی پراجیکٹس لانچ کرنا سیکھایا گیا ہے۔ نواز شریف صاحب کے دور میں ملک ترقی کی بلند ترین سطح پر تھا۔گزشتہ چار سالہ حکومت میں پاکستان کے ڈیفالٹ کی باتیں ہورہی تھیں۔ آج پاکستان نہ صرف ڈیفالٹ سے نکل گیا بلکہ ہر روزآگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام گزشتہ دور حکومت اور آج محمد نوا زشریف کی حکومت کا موازنہ کررہے ہیں۔ پنجاب میں بڑے بڑے ہسپتال بن رہے ہیں اور خیبر پختونخوا سے بھی لوگ علاج معالجہ کے لئے آتے ہیں۔ خیبرپختونخوا سے آنے والے لوگ پنجاب کی ترقی دیکھتے ہیں۔ پنجاب میں روٹی سستی، علاج معالجہ کی سہولتیں اور ٹرانسپورٹ دیگر منصوبے کے پی کے عوام کے لئے کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشکل فیصلے کیے کہ کسان کو نقصان بھی نہ ہو اور روٹی کی قیمت بھی نہ بڑھے۔ پنجاب کے چھوٹے اضلاع میں بھی عوام کو الیکٹرک بس پرباعزت سفرکی سہولت دی۔اکثر سوچتی ہوں کہ خدمت کی سیاست آسانی سے نہ مٹائی جاسکتی ہے نہ بھلائی جاسکتی ہے۔مجھے کوئی ایسا سیاستدان بتائیں جو چالیس سال سے مشکلات،رکاوٹوں اورسازشوں کے باوجودمقابلہ کررہا ہوں۔
محمد شہبازشریف وزیراعظم ہیں اورمریم نوازوزیراعلیٰ لیکن حکومت محمد نوازشریف کی ہے۔وہ تکالیف بھی برداشت کی جن کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ہم نے اپنا بیانہ صرف اورصرف عوام کی خدمت کی سیاست پر بنایا۔پاکستان کے دشمن چاہتے تھے کہ ملک ڈیفالٹ کرجائیں۔انہوں نے کہا کہ آج بھی نوازشریف انتقام نہیں بلکہ ہمیں محنت اورخدمت کا درس دے رہے ہیں۔مہنگائی چالیس فیصد سے چار فیصد پر آگئی،الحمدللہ،روٹی اورگندم کی قیمت کو تناسب سے کنٹرول کیا۔کے پی کے لوگ بھی ہمارے پراجیکٹس دیکھ رہے ہیں،علاج کیلئے آتے ہیں،ان کیلئے دروازیں ہم نے ہمیشہ کھلے رکھیں۔دو سال میں 30ہزار سڑکوں کی تعمیر کوئی معمولی بات نہیں۔روزانہ سڑکیں دھلتی ہے،لوگ گلی محلوں کو صاف دیکھتے ہیں،اسی بنیاد پر (ن) لیگ کو ووٹ مل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو لوگوں کے دلوں سے نکلانا آسان کام نہیں،واحد جماعت ہے جس نے کام کرکے دکھایا۔پاکستان مسلم لیگ (ن)پاکستان کاحال بھی ہے اور مستقبل بھی۔ارکان اسمبلی سے درخواست کرتی ہوں کہ پہلے دن سے ہی عوام کی خدمت کا ریکارڈ قائم کریں،اتنی محنت کریں کہ سب لوگ آپ کے ساتھ آجائیں۔

