بی وائی سی کی چیف آرگنائزر ماہ رنگ بلوچ کراچی میں درج بغاوت کے مقدمے سے بری

کراچی (نامہ نگار) انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی گرفتار چیف آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو بغاوت اور دیگر الزامات کے مقدمے سے بری کر دیا۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ استغاثہ کے گواہوں میں شکایت کنندہ کے علاوہ باقی تمام پولیس اہلکار شامل تھے اور وہ مبینہ واقعے کے حقائق سے واقف نہیں تھے۔ مقدمہ قائدآباد تھانے میں 11 اکتوبر 2024 کو درج کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے اپنے وکیل کے ذریعے فوجداری ضابطہ کار کی دفعہ 256-K کے تحت بریت کی درخواست دائر کی، جسے عدالت منظور کرتے ہوئے ملزمہ کو بری کر دیا۔

عدالتی حکم میں کہا گیا کہ استغاثہ کے بیانات میں مبینہ واقعے کا کوئی ذکر نہیں تھا، تحقیقاتی افسر نے آزاد گواہ یا اہلِ علاقہ سے معلومات حاصل نہیں کیں، اور چالان جمع کرانے میں 10 ماہ کی تاخیر ہوئی۔ عدالت نے مزید کہا کہ زیرِ التوا مقدمات کی موجودگی کسی ملزم کو مجرم قرار دینے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔

مقدمہ لانڈھی کے ایک تاجر اسد شمس کی شکایت پر درج کیا گیا تھا، جس میں الزام تھا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ساتھیوں نے سوشل میڈیا پر غیر ملکی سرپرستوں کے ایما پر ریاست مخالف مہم چلائی، عوام میں نفرت پھیلائی اور مبینہ طور پر دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کیا۔

ایف آئی آر میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 124-اے، 148، 149، 153-اے، 500 اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 شامل کی گئی تھیں۔عدالت نے حکم دیا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 256-K کے تحت بری کیا جائے، تاہم دیگر زیرِ التوا مقدمات کی وجہ سے وہ بدستور کوئٹہ جیل میں حراست میں رہیں گی۔