تہران/واشنگٹن(رائٹرز، اے ایف پی، الجزیرہ، بی بی سی)امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران تہران نے واشنگٹن سے اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے، جن کی مجموعی مالیت ماہرین کے مطابق 100 ارب ڈالر سے زائد بتائی جاتی ہے۔
ایرانی سرکاری رپورٹس اور بین الاقوامی اندازوں کے مطابق یہ اثاثے وہ رقوم ہیں جو ایران نے تیل کی فروخت اور دیگر ذرائع سے حاصل کیں، تاہم امریکی اور عالمی پابندیوں کے باعث مختلف ممالک کے بینکوں میں منجمد ہو گئیں۔رپورٹس کے مطابق چین میں ایران کے کم از کم 20 ارب ڈالر، بھارت میں تقریباً 7 ارب ڈالر، عراق میں 6 ارب ڈالر اور قطر میں بھی لگ بھگ 6 ارب ڈالر کے اثاثے موجود ہیں۔
اسی طرح جاپان میں تقریباً 1.5 ارب ڈالر جبکہ امریکا میں قریب 2 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثے منجمد ہیں، جبکہ یورپ میں لگسمبرگ میں تقریباً 1.6 ارب ڈالر کی رقوم روکی گئی ہیں۔ایران پر پابندیوں کا آغاز 1979ء کے بعد ہوا تھا، جو اس کے جوہری پروگرام کے باعث وقت کے ساتھ مزید سخت ہوتی گئیں، جس کے نتیجے میں ایرانی معیشت شدید دباؤ کا شکار رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منجمد اثاثے بحال ہو جائیں تو ایران اپنی معیشت کو سہارا دینے، انفرااسٹرکچر بہتر بنانے اور مالی استحکام حاصل کرنے میں نمایاں پیش رفت کر سکتا ہے، جبکہ مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

