جاپان میں 7.7 شدت کا زلزلہ، سونامی وارننگ ختم، بڑے زلزلے کا خدشہ برقرار

ٹوکیو( بی بی سی، رائٹرز، اے ایف پی، جاپان میٹرولوجیکل ایجنسی)جاپان کے شمال مشرقی ساحل کے قریب 7.7 شدت کا زلزلہ آنے کے بعد جاری کی گئی سونامی وارننگ کو بعد ازاں ختم کر دیا گیا، تاہم حکام نے آئندہ ایک ہفتے کے دوران مزید بڑے زلزلے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

زلزلہ ایواتے پریفیکچر کے ساحل کے قریب سمندر میں تقریباً 10 کلومیٹر گہرائی میں آیا، جس کے بعد ساحلی علاقوں میں رہنے والے ہزاروں افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔ابتدائی طور پر 3 میٹر بلند سونامی لہروں کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا، تاہم سب سے بڑی لہر تقریباً 80 سینٹی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ بعد ازاں وارننگ کو کم کر کے ایڈوائزری کیا گیا اور رات گئے مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔

جاپان میٹرولوجیکل ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں 8 شدت یا اس سے زیادہ کا زلزلہ آنے کا خطرہ معمول سے زیادہ ہے اور مزید شدید جھٹکے بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔زلزلے کے جھٹکے جاپان کے مرکزی جزیرے ہونشو، شمالی علاقے ہوکائیڈو اور دارالحکومت ٹوکیو تک محسوس کیے گئے، جبکہ ہوکائیڈو میں کئی گھنٹوں تک سونامی الرٹ برقرار رہا۔

جاپان کے کابینہ سیکریٹری منورو کیہارا نے بتایا کہ کچھ بلیٹ ٹرین سروسز متاثر ہوئیں اور تقریباً 100 گھروں کی بجلی معطل ہوئی، تاہم فوری طور پر کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ممکنہ خطرات کے پیش نظر بلند اور محفوظ مقامات پر رہیں۔

واضح رہے کہ جاپان “رِنگ آف فائر” میں واقع ہے جہاں سالانہ تقریباً 1500 زلزلے آتے ہیں اور دنیا بھر میں آنے والے 6 شدت یا اس سے زائد زلزلوں کا تقریباً 10 فیصد جاپان میں ریکارڈ ہوتا ہے، جبکہ 2011 میں آنے والے 9.0 شدت کے زلزلے اور سونامی میں 18 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔