حوثیوں کا ریاض پر بیلسٹک میزائل حملوں کا دعویٰ، سعودی عرب کا ایک میزائل روکنے کی تصدیق

ریاض(اے ایف پی، رائٹرز، سعودی حکام) یمن کے حوثیوں نے سعودی دارالحکومت ریاض پر بیلسٹک اور کروز میزائلوں سمیت ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سعودی حکام نے ریاض کی جانب فائر کیا گیا ایک بیلسٹک میزائل روکنے اور تباہ کرنے کی تصدیق کی ہے۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے بیان میں کہا کہ بڑی تعداد میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ریاض میں حساس تنصیبات اور بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع میں سعودی سرکاری تیل و گیس کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

یحییٰ سریع کے مطابق یہ حملے یمن کے دارالحکومت صنعا کو نشانہ بنانے کی سعودی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے۔

دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان نے کہا کہ سعودی فضائی دفاع نے ریاض کے علاوہ بیش، طائف، فرسان اور ینبع میں شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں ناکام بنادیں۔

اس سے قبل ریاض میں فضائی حملے کے انتباہ کے بعد متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں جبکہ کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایندھن کے ٹینکوں سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔

اے ایف پی کے صحافی کے مطابق آرامکو کے ایک جلنے والے ایندھن ٹینک کی آگ بجھانے کیلئے فائر فائٹرز موقع پر موجود تھے۔ ریاض کے ہوائی اڈے پر پروازوں میں بھی عارضی طور پر شدید خلل پڑا اور پروازوں کی آمد و روانگی میں تاخیر اور منسوخی کی اطلاعات سامنے آئیں۔

حوثیوں کے حملوں میں کسی جانی نقصان کی سعودی حکام کی جانب سے فوری تصدیق نہیں کی گئی۔حوثیوں نے حالیہ مہینوں کے دوران سعودی عرب میں متعدد اہداف پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان ہفتے کے روز ہونے والی لڑائی میں دونوں جانب سے مجموعی طور پر 48 افراد کی ہلاکت کی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں، حوثیوں نے اپنے 31 جنگجوؤں جبکہ حکومتی ذرائع نے 17 فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

عالمی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق حالیہ لڑائی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 4 ہزار 796 سے تجاوز کرگئی ہے۔