پشاور(نمائندگان)اپوزیشن کے شور شرابے کے دوران خیبر پختونخوا حکومت نے مالی سال 27-2026 کا 2170 ارب روپے حجم کا بجٹ اسمبلی میں پیش کر دیا، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے اور کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بجٹ تقریر کے دوران بتایا کہ صحت کے شعبے کیلئے 334 ارب روپے جبکہ تعلیم کیلئے 468 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی اور احتجاج بھی کیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے519 ارب 10 کروڑ 39 لاکھ 10 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں بندوبستی اضلاع کیلئے427 ارب 18 کروڑ 27 لاکھ روپے، قبائلی اضلاع کیلئے39 ارب 63 کروڑ 72 لاکھ روپے جبکہ ضم شدہ اضلاع کیلئے52 ارب 28 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں مجموعی طور پر 2765 منصوبے شامل ہیں، جن میں بندوبستی اضلاع کے 2070، ضم اضلاع کے 318 اور تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کے 377 منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کیلئےمجموعی طور پر 2448 ارب روپے درکار ہوں گے، جبکہ سڑکوں کی تعمیر کیلئے 39 ارب 49 کروڑ روپے، سرکاری جامعات کیلئے 11 اعشاریہ 9 ارب روپے اور ہیومن کیپیٹل انویسٹمنٹ منصوبے کیلئے8 اعشاریہ 7 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومت نے مفت درسی کتب اور ای ایس ای ایف گرانٹ کے لیے 8 اعشاریہ 5 ارب روپے، اسکولوں سے باہر بچوں کی تعلیم کیلئے5 ارب روپے، کم کارکردگی والے اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ کیلئے 3 اعشاریہ 3 ارب روپے اور طلبہ کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کیلئے 2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
بجٹ میں اساتذہ کی بھرتی کیلئے ایک ارب 70 کروڑ روپے، دینی مدارس کے طلبہ کیلئے145 ملین روپے، امن و امان کیلئے191 ارب روپے اور سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کیلئے 14 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ بی آر ٹی منصوبے کیلئے7 اعشاریہ 5 ارب روپے، ریسکیو 1122 کی توسیع کیلئے 2 اعشاریہ 2 ارب روپے، بیرون ملک روزگار کے خواہش مند افراد کیلئے 2 ارب روپے قرضوں کی مد میں جبکہ ہزارہ ڈویژن کی آٹھ تحصیلوں میں کھیلوں کے میدانوں کیلئے 150 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔

