سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر ایران پر حملہ مؤخر کیا:ٹرمپ

واشنگٹن( امریکی میڈیا)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر منگل کے روز حملے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، تاہم سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر کارروائی مؤخر کر دی گئی۔

اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے فوری حملہ نہ کرنے کا مشورہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران سے متعلق سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں اور خلیجی رہنماؤں کا خیال ہے کہ ایک ایسی مفاہمت ممکن ہے جو امریکا، مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک کے لیے قابل قبول ہو۔

امریکی صدر کے مطابق ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جائے گا، اسی لیے امریکی فوج کو منگل کے روز کارروائی نہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکی فوج مختصر نوٹس پر مکمل حملے کے لیے تیار رہے گی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ذرائع ابلاغ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پسپائی اختیار بھی کر لے تو بعض میڈیا ادارے اسے ایران کی کامیابی قرار دیں گے۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایسا معاہدہ طے پا جاتا ہے جس کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے تو امریکا مطمئن ہو سکتا ہےاور بظاہر معاہدے کے امکانات موجود ہیں۔