سان ڈیاگو:مسجد میں سیکیورٹی گارڈ نے بچوں‌کی حفاظت کیلئے جان قربان کردی

سان ڈیاگو (خبر رساں ادارے)امریکی ریاست سان ڈیاگو کی سب سے بڑی مسجد میں فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے سیکیورٹی گارڈ کے بارے میں ان کے قریبی دوست سام حمید نے بتایا ہے کہ وہ 8 بچوں کے باپ تھے اور اپنی کمیونٹی سے بے حد محبت رکھتے تھے۔

دوست کے مطابق وہ صرف ایک سیکیورٹی گارڈ نہیں تھے بلکہ ہر وقت مسکراتے، مثبت رویہ رکھتے اور لوگوں کو حوصلہ دیتے تھے۔ ان کے مطابق وہ مضبوط ایمان کے حامل اور انتہائی مہربان انسان تھے۔

سام حمید نے بتایا کہ مسجد کے اندر کنڈرگارٹن سے تیسری جماعت تک کے بچوں کا اسکول بھی موجود ہے، اور یہ سیکیورٹی گارڈ ہر روز بچوں کو اسکول چھوڑنے آنے والے والدین سے خوش دلی سے ملتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے روز بھی جب ان کی اہلیہ بچے کو چھوڑنے آئیں تو سیکیورٹی گارڈ نے کہا: “سام کو سلام کہنا” — لیکن بعد میں وہ جانتے تھے کہ یہ ان کا آخری جملہ ثابت ہوگا۔

دوست کے مطابق واقعے کے بعد جب انہوں نے اپنے بچے کے استاد کو فون کیا تو وہ پہلا شخص نہیں بلکہ دوسرا رابطہ اسی سیکیورٹی گارڈ سے متعلق کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ جانتے تھے کہ وہ بچوں کی حفاظت کیلئےاپنی جان قربان کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ گولی نہ روکتے تو حملہ آور آسانی سے اوپر جا کر مزید بچوں کو نشانہ بنا سکتے تھے۔دوست کے مطابق سب سے دردناک بات یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو دوسروں کے بچوں کی حفاظت کیلئے اپنی جان قربان کر گیا، اب اپنے ہی بچوں کیلئے ہمیشہ کیلئےنہیں رہا۔