امریکا نے کینیڈا کے ساتھ مشترکہ دفاعی بورڈ میں شرکت معطل کر دی

واشنگٹن( عرب میڈیا)امریکا نے کینیڈا کے ساتھ قائم دوسری جنگِ عظیم کے دور کے مشترکہ دفاعی بورڈ میں اپنی شرکت عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔یہ دفاعی بورڈ دوسری جنگِ عظیم کے دوران قائم کیا گیا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون کا اہم فورم سمجھا جاتا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع کے نائب سربراہ ایلبریج کولبی نے کہا ہے کہ کینیڈا اپنے دفاعی وعدوں پر مؤثر پیش رفت نہیں کر سکا، اسی لیے امریکا اس فورم کے فوائد کا دوبارہ جائزہ لے گا۔انہوں نے کہا کہ صرف بیانات کافی نہیں بلکہ اتحادی ممالک کو عملی دفاعی ذمے داریاں بھی پوری کرنا ہوں گی۔

رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت مسلسل اتحادی ممالک پر یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ وہ اپنی دفاعی ذمے داریاں مکمل طور پر ادا نہیں کر رہے اور امریکی فوجی طاقت پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

دوسری جانب کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی پہلے ہی امریکا پر انحصار کم کرنے اور دفاعی خودمختاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔کینیڈا نے نیٹو کے تحت اپنے دفاعی اخراجات مجموعی قومی پیداوار کے 5 فیصد تک بڑھانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق حالیہ مہینوں میں امریکا اور کینیڈا کے تعلقات میں مزید کشیدگی دیکھی گئی ہے جبکہ امریکا نے کینیڈا پر تجارتی پالیسیوں اور سرحدی نگرانی سے متعلق بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔صدر ٹرمپ ماضی میں کینیڈا کو امریکا کی “51 ویں ریاست” بنانے سے متعلق متنازع بیان بھی دے چکے ہیں۔