کولمبو(نمائندہ خصوصی)سری لنکا میں طاقتور سمندری طوفان کے باعث شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 159 افراد ہلاک اور 203 لاپتہ ہو گئے ہیں۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے مطابق کولمبو کے شمالی علاقوں میں کیلانی دریا کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث شدید سیلاب کا سامنا ہے۔

ڈی ایم سی کا کہنا ہے کہ سمندری طوفان گزر چکا ہے، تاہم بالائی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں نے نچلے علاقوں کو پانی میں ڈبو دیا ہے۔صدر انورا کمار دسانایکے نے ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے بین الاقوامی امداد کی اپیل کی ہے۔ بھارت نے امدادی سامان اور ہیلی کاپٹر عملے کے ساتھ فوری معاونت بھیجی ہے، جبکہ جاپان نے بھی امدادی ٹیم روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ملک بھر میں بارشیں کم ہونے کے باوجود وسطی صوبے کے کئی راستے بدستور بند ہیں۔ طوفان اور سیلاب کے باعث 20 ہزار سے زائد مکانات تباہ ہو چکے ہیں، 1 لاکھ 22 ہزار افراد عارضی کیمپوں میں منتقل کیے گئے ہیں اور 8 لاکھ 33 ہزار سے زائد افراد امداد کے منتظر ہیں۔
فوج، بحریہ، فضائیہ اور ہزاروں رضاکار ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ متعدد علاقوں میں بجلی اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی معطل ہے، جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی متاثر ہوئی ہے۔
“پاکستان کی امداد”
وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایات پر این ڈی ایم اے نے سری لنکا کے لیے امدادی مہم شروع کر دی ہے۔ نور خان ایئر بیس سے 45 رکنی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم، موبائل فیلڈ ہسپتال، کشتیاں، لائف جیکٹس، خیمے، کمبل، خوراک، دوائیں اور بچوں کا دودھ کولمبو روانہ کیے جائیں گے۔
گزشتہ روز پاک بحریہ نے بھی کولمبو بندرگاہ پر خوراک، خشک راشن، تیار کھانے، ادویات اور دیگر ضروری سامان پر مشتمل امدادی کھیپ سری لنکن حکام کے حوالے کی۔وزیر اعظم شہباز شریف نے متاثرین سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریسکیو اور ریلیف میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔
سمندری طوفان “ڈٹواہ” سری لنکا کی حالیہ تاریخ کی مہلک ترین آفت بن گیا ہے۔ اس سے قبل 2017 کے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ میں 200 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ 2003 کے شدید سیلاب میں 254 اموات ہوئی تھیں۔

