ڈھاکا/سنگاپور(ایجنسیاں) بنگلادیش کے دارالحکومت ڈھاکا میں فائرنگ کے واقعے میں شدید زخمی ہونے والے طالب علم رہنما عثمان ہادی سنگاپور میں دورانِ علاج انتقال کر گئے۔
انقلاب منچا کے مطابق عثمان ہادی جمعرات کی شب بنگلا دیشی وقت کے مطابق 9 بج کر 45 منٹ انتقال کر گئے۔ ان کی موت کی تصدیق نیشنل سٹیزن پارٹی کے ہیلتھ سیل کے سربراہ ڈاکٹر احد نے بھی کی۔
رپورٹس کے مطابق عثمان ہادی 12 دسمبر کو ڈھاکا کے پرانا پلٹن علاقے میں بیٹری رکشہ میں انتخابی مہم کیلئے جا رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار حملہ آور نے ان پر فائرنگ کی۔ انہیں فوری طور پر ڈھاکا میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں دماغی زخم کی وجہ سے ایمرجنسی سرجری کی گئی۔مزید علاج کیلئے15 دسمبر کو سنگاپور منتقل کیا گیا۔
عثمان ہادی کی موت پر بی این پی اور نیشنل سٹیزن پارٹی نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور مرحوم کی مغفرت کیلئے دعائیں کیں۔ پولیس اور ریپڈ ایکشن بٹالین (راب) نے قتل کے مقدمے میں 14 افراد کو حراست میں لیا ہے، جبکہ مرکزی ملزم فیصل کریم مسعود اور اس کا ساتھی عالمگیر شیخ بھارت فرار ہو چکے ہیں۔
بنگلادیش میں بھارت کیخلاف طلباء کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا، مظاہرین نے سابق وزیرِ اعظم حسینہ واجد سمیت ملوث افراد کی حوالگی اور طلباء تحریک کو شدت پسند قرار دینے پر بھارت سے معافی کا مطالبہ کیا۔

