شیخوپورہ (نمائندہ خصوصی) شیخوپورہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پاکستان کے 79ویں یوم آزادی کے موقع پر پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں صنعتکاروں، تاجروں، کاروباری شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منظور الحق ملک نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز ختم نہیں ہوئے بلکہ بڑھ رہے ہیں، ہمیں مستقبل کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے معاشی، صنعتی اور انتظامی نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔
منظور الحق ملک نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ چیلنجز میں اپنی ٹیکنالوجی، محنت، افرادی قوت اور صلاحیت کے ذریعے دشمن کے عزائم کا مقابلہ کیا، اب اسی صلاحیت کو معاشی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے تعلقات خوش آئند ہیں، ہمیں ان ممالک کی ترقی اور کاروباری نظام کا مطالعہ کرکے سیکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں کاروبار کرنے میں آسانی کے لیے نمایاں اقدامات کیے گئے ہیں اور خواتین بھی تیزی سے کاروباری سرگرمیوں میں آگے بڑھ رہی ہیں، پاکستان میں بھی خواتین کو کاروبار اور معاشی سرگرمیوں میں زیادہ مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔
منظور الحق ملک نے کہا کہ پارلیمنٹ کو روزمرہ کی پالیسی سازی اور قانون سازی میں مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا جبکہ سرکاری اداروں کو بھی زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرنا چاہئیں۔ کاروباری افراد کو بار بار نوٹسز، غیرضروری کارروائیوں اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہوگا تو سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ صنعتکاروں اور کاروباری افراد کو ملکی معیشت میں ان کے کردار کے باعث عزت اور سہولت دی جائے، انہیں مسائل کا سبب سمجھنے کے بجائے کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔ ٹیکس نظام قابل عمل، شفاف اور کاروبار دوست ہونا چاہیے، خام مال، بجلی، ٹیکس اور صنعتی پیداوار سے متعلق مستقل اور واضح پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر، کمشنر، وزیراعلیٰ اور وزیراعظم سمیت تمام ریاستی ادارے ہمارے لیے قابل احترام ہیں، تاہم کاروباری برادری بھی عزت، تحفظ اور اعتماد کے ساتھ کاروبار کرنے کا حق رکھتی ہے۔ کاروباری افراد کے مسائل کے حل کے لیے انتظامیہ کو چیمبرز آف کامرس اور کاروباری تنظیموں سے رابطہ رکھنا چاہیے۔
منظور الحق ملک نے کہا کہ دنیا میں بڑے کھیلوں کے مقابلے صرف کھیل نہیں بلکہ بڑی معاشی سرگرمی کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ بڑے فٹ بال مقابلوں سے ایئر لائنز، پبلک ٹرانسپورٹ، ہوٹلوں، سیاحت اور اسپانسرشپ سمیت مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر معاشی سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں، پاکستان کو بھی کھیلوں کو نوجوانوں کی مثبت سرگرمی کے ساتھ معاشی ترقی کے ذریعے کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نئی منڈیاں اور کاروباری مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے، سرکاری اداروں میں اصلاحات اور نجکاری کے ذریعے انہیں بہتر انداز میں چلایا جاسکتا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سمیت دیگر اداروں کے حوالے سے بھی ایسی پالیسی بنائی جائے جس سے عوام اور کاروباری طبقے کو بہتر سہولیات مل سکیں۔
مقرر نے کہا کہ قوانین اور پالیسیاں زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر بنائی جائیں۔ صرف دفتری بریفنگز کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے بجائے عملی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اگر کاروباری افراد کو کسی سرکاری ادارے یا افسر سے مسئلہ درپیش ہو تو ان کے لیے مؤثر شکایتی نظام ہونا چاہیے۔ کاروباری برادری کا کام سڑکوں پر آنا نہیں بلکہ صنعت، تجارت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بچوں کو اسکولوں میں لانا، انہیں صحت مند بنانا اور ان کی ذہنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا قومی ترجیح ہونی چاہیے۔ اگر افرادی قوت تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ نہیں ہوگی تو جدید مشینری اور ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جاسکے گا۔ آئندہ یوم آزادی تک ہمارا ہدف ہونا چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ بچے اسکول جائیں اور نوجوانوں کو کھیلوں کے میدان اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم ہوں۔
منظور الحق ملک نے کہا کہ پارکس اور کھیلوں کے میدان صحت مند معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، کھیلوں اور تفریحی سرگرمیوں پر سرمایہ کاری سے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے ساتھ صحت کے شعبے پر بوجھ بھی کم کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاروبار کسی مذہب یا فرقے سے مخصوص نہیں، کاروبار کی بنیاد دیانت داری ہے۔ ہمیں پاکستان میں دیانت داری، شفافیت اور اعتماد کے ساتھ کاروبار کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ یوم آزادی کے موقع پر عہد کرے کہ کاروباری معاملات میں ایمانداری کو بنیادی اصول بنائے گی۔
منظور الحق ملک نے کہا کہ پاکستان دنیا کے بہترین انسانی وسائل رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، ہمارے ڈاکٹر، انجینئر، ماہرین معیشت، کاروباری افراد اور دیگر پیشہ ور دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ پاکستانی سائنسدانوں اور انجینئرز نے ایسی ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیتیں حاصل کی ہیں جنہیں کبھی ناممکن سمجھا جاتا تھا، ضرورت اس امر کی ہے کہ اسی ذہانت اور صلاحیت کو صنعت، تجارت، ٹیکنالوجی اور معاشی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ کاروبار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن وسائل سے محروم ہیں، انہیں مالی معاونت اور مواقع فراہم کیے جائیں۔ حکومت اور متعلقہ ادارے ایسے افراد کو روزگار اور پیداواری سرگرمیوں سے منسلک کرنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کریں۔
انہوں نے سرکاری اداروں پر زور دیا کہ کاروباری طبقے کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کے بجائے آگاہی اور تربیتی ورکشاپس منعقد کی جائیں، ٹیکس اور دیگر قوانین کے بارے میں واضح طریقہ کار بتایا جائے اور کاروباری افراد کو سہولت فراہم کی جائے۔ اگر ادارے کاروبار دوست ماحول پیدا کریں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو تو پاکستان میں مزید سرمایہ کاری آسکتی ہے۔
منظور الحق ملک نے کہا کہ پاکستان کی بڑی آبادی، وسیع رقبہ اور باصلاحیت انسانی وسائل ہماری بڑی طاقت ہیں، ہمیں عالمی منڈیوں سے فائدہ اٹھانے اور بیرون ملک پاکستانیوں کے تجربات اور سرمایہ کاری کو بھی ملک کی ترقی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یوم آزادی صرف جشن منانے کا دن نہیں بلکہ اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں سوچنے اور عملی عہد کرنے کا دن ہے۔ پاکستان ہمارے لیے صرف مرنے کی جگہ نہیں بلکہ جینے، محنت کرنے اور ترقی کرنے کی سرزمین ہے۔ ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں لوگ عزت کے ساتھ رہیں، کاروبار کریں، سرمایہ کاری کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل تعمیر کریں۔
تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے دعا کی گئی جبکہ شرکاء نے وطن عزیز کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

