اسلام آباد/واشنگٹن/تہران(رائٹرز، اے ایف پی، الجزیرہ، بی بی سی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی تو وہ ایرانی قیادت سے ملاقات کیلئے تیار ہیں، نائب صدر جے ڈی وینس کا طیارہ چند گھنٹوں میں پاکستان پہنچ جائیگا۔
امریکی اخبار کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکی مذاکراتی ٹیم جس میں نائب صدر جے ڈی وینس اور نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف شامل ہیں، اسلام آباد کیلئےروانہ ہو چکی ہے اور جلد پہنچ جائیگی۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا بنیادی نکتہ واضح اور ناقابلِ سمجھوتہ ہے، ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے سے مکمل طور پر دستبردار ہونا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سنجیدہ مذاکرات ہیں، کوئی کھیل نہیں، اگر بریک تھرو ہوا تو وہ ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے، اگر ایرانی قیادت ملاقات چاہتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں، امریکا ایران کے ساتھ ایک درست معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اسرائیل نے انہیں ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں کیا، جبکہ 7 اکتوبر کے واقعات نے ان کے مؤقف کو مزید مضبوط کیا ہے۔
سوشل میڈیا بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کی قیادت دانشمندی کا مظاہرہ کرے تو ملک ایک روشن اور مستحکم مستقبل حاصل کر سکتا ہے۔دوسری جانب ایرانی بحری جہاز پر امریکی حملے اور قبضے کے بعد ایران نے مذاکرات کو امریکی ناکا بندی کے خاتمے سے مشروط کر دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ثالث پاکستان کو آگاہ کر دیا گیا ہے، امریکا سفارتی عمل میں سنجیدہ نہیں اور اس نے بحری ناکا بندی اور ایرانی جہاز پر حملے کے ذریعے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کو یک طرفہ طور پر معمول پر لانا ممکن نہیں، امریکی تجاویز غیر سنجیدہ اور مطالبات غیر حقیقی ہیں، ایران سے جوہری مواد کی بیرونِ ملک منتقلی کبھی مذاکرات کا حصہ نہیں رہی۔
اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا تھا کہ دشمن پر عدم اعتماد اور باہمی روابط میں احتیاط ناگزیر ہے، جنگ کسی کے مفاد میں نہیں اور کشیدگی میں کمی کے لیے ہر ممکن سفارتی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
ادھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر اور ایرانی سفیر رضا امیری مقدم سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں بھی ہوئیں، جن میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
محسن نقوی نے امریکی ناظم الامور سے ملاقات میں مذاکرات کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، جبکہ ایرانی سفیر کو بتایا کہ دوسرے مرحلے کی تیاریاں مکمل ہیں، دونوں سفارتکاروں نے کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے پاک فوج، رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہےریڈ زون ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند جبکہ شہریوں کو متبادل ٹریفک پلان پرعمل کی ہدایت کی گئی ہے۔
دارالحکومت میں ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند ہے، راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس معطل جبکہ فیض آباد، پیرودھائی اور 26 نمبر چونگی کے مقامات بھی بند کر دیے گئے ہیں، سرکاری دفاتر میں ورک فرام ہوم اور تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز کا اہتمام کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 7 اپریل کو ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جو امریکی وقت کے مطابق منگل کی شام ختم ہونے والی ہے۔

