مسی ساگا :بونی کرومبی کا سرکاری اخراجات گھٹانے اور مالی شفافیت کا وعدہ

مسی ساگا (اشرف خان لودھی سے)کینیڈا کے شہر مسی ساگا میں بونی کرومبی کے اعزاز میں منعقدہ ملاقات اور گفتگو کی تقریب میں انہوں نے میئر کے انتخاب میں دوبارہ حصہ لینے کے فیصلے، پراپرٹی ٹیکس میں اضافے، بلدیاتی اخراجات میں کمی، شہریوں کے تحفظ، قانونی بیسمنٹ اپارٹمنٹس اور سرکاری مالیاتی نظام میں شفافیت کے حوالے سے اپنے مؤقف کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں شہر کے حالات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور شہریوں کو بڑھتے ہوئے ٹیکسوں، تحفظ کے مسائل اور بنیادی سہولیات سے متعلق خدشات کا سامنا ہے۔

مسی ساگا میں منعقدہ اس تقریب کی میزبانی عائشہ ندیم نے کی۔ شرکاء کو بونی کرومبی سے براہِ راست ملاقات اور سوالات کے ذریعے اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا، جبکہ ان کی تواضع کیلئےہلکی پھلکی refreshments کا بھی انتظام تھا۔ تقریب کے منتظمین کے مطابق اس کا اہتمام بونی کرومبی کی انتخابی مہم کے چیف فنانشل آفیسر کی اجازت سے کیا گیا تھا۔

بونی کرومبی نے کہا کہ انہوں نے صوبائی لبرل پارٹی کی قیادت کیلئےانتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم مسی ساگا کے شہریوں اور مقامی معاملات سے ان کی وابستگی برقرار رہی۔ ان کے مطابق پیل ریجن سے مسی ساگا کی علیحدگی اور شہر کیلئے مزید سرمایہ کاری حاصل کرنا ان کے اہم مقاصد میں شامل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نجی شعبے میں ان کے پاس کاروباری شعبے کا 20 سالہ تجربہ، کاروباری انتظامیہ میں اعلیٰ تعلیم اور ڈائریکٹرز کی تربیت کی سند موجود ہے، جبکہ سیاست سے باہر بھی انہیں کام کے مواقع حاصل تھے، لیکن شہریوں کے اصرار اور مقامی مسائل نے انہیں دوبارہ میئر کا انتخاب لڑنے پر آمادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ متعدد شہریوں نے ان سے رابطہ کرکے ٹیکسوں میں اضافے، اخراجات پر قابو پانے اور محلوں میں تحفظ کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے تجربہ کار قیادت کی ضرورت پر زور دیا۔ بونی کرومبی کے مطابق شہری چاہتے ہیں کہ بلدیاتی انتظامیہ مالی معاملات کو دوبارہ قابو میں لائے اور پولیس کے ساتھ مل کر محلوں کو محفوظ بنانے کے اقدامات کرے۔

انہوں نے پراپرٹی ٹیکس کے حوالے سے کہا کہ ان کا وعدہ ہے کہ ٹیکسوں میں اضافہ مہنگائی کی شرح کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کے بقول گزشتہ دو برسوں میں ہر سال پراپرٹی ٹیکس میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ رواں سال اضافے کو تقریباً ساڑھے پانچ فیصد تک محدود رکھنے کیلئے ریزرو فنڈ سے 33 ملین ڈالر استعمال کیے گئے۔ انہوں نے اس اقدام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی حالات کیلئے مختص رقم کو ٹیکس بل کم دکھانے کیلئے استعمال کرنے سے مستقبل میں سیلاب، طوفان یا کسی دوسرے بڑے بحران کے وقت مالی وسائل کی کمی پیدا ہوسکتی ہے۔

بونی کرومبی نے اپنے بیان میں بلدیاتی اخراجات کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں ٹیکسوں کے اضافے اور مجموعی اخراجات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق مسی ساگا میں شہر کے ٹیکسوں کے اضافے کی اوسط شرح تقریباً 1.7 فیصد رہی، جبکہ پیل ریجن کے ٹیکسوں میں گزشتہ 9 برس کے دوران اوسط اضافہ تقریباً 3.4 فیصد تھا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران صحت کے کارکنوں کی رہائش سمیت بعض غیرمعمولی اخراجات بھی سامنے آئے تھے، تاہم مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے صفر فیصد ٹیکس اضافے کے وعدوں پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر اخراجات میں مناسب کمی کیے بغیر ہر سال ٹیکسوں میں اضافے کو مکمل طور پر روکنے کا وعدہ کیا جائے تو اسے مستقل بنیادوں پر پورا کرنا مشکل ہوگا۔ ان کے مطابق ہنگامی فنڈ سے رقم نکال کر وقتی طور پر ٹیکسوں میں اضافہ کم دکھایا جاسکتا ہے، لیکن ایسا بار بار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس سے ہنگامی ضروریات کے لیے رقم ختم ہونے کا خدشہ ہے۔

بزرگ شہریوں کو پراپرٹی ٹیکس میں رعایت دینے کے معاملے پر بونی کرومبی نے آمدنی کی بنیاد پر سہولت فراہم کرنے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ رعایت ہر شخص کو یکساں طور پر دینے کے بجائے مستحق افراد کی آمدنی کو مدنظر رکھتے ہوئے دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر تمام بزرگ شہریوں کو بلاامتیاز ٹیکس سے استثنیٰ دے دیا جائے تو بلدیاتی آمدنی پر دباؤ پڑ سکتا ہے، جبکہ شہر کو پولیس، فائر فائٹرز اور دیگر بنیادی خدمات کے اخراجات پورے کرنے کے لیے آمدنی کی ضرورت رہتی ہے۔

تقریب میں ایک خاتون نے یورپ کے بعض ممالک میں بزرگ شہریوں کو پراپرٹی ٹیکس سے رعایت دینے کی مثال پیش کی تو بونی کرومبی نے جواب دیا کہ مختلف ممالک کے مالیاتی نظام الگ ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض یورپی ممالک میں مقامی حکومتوں کو آمدنی کے ٹیکس میں حصہ ملتا ہے، اسلئے ان کے مالی وسائل کا طریقہ کینیڈا کے بلدیاتی نظام سے مختلف ہے۔

بیسمنٹ اپارٹمنٹس کو کرائے پر دینے کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے بونی کرومبی نے کہا کہ ایسے گھروں کے مالکان جو اپنی رہائشی عمارت کے نچلے حصے کو کرائے پر دے کر آمدنی حاصل کرتے ہیں، ان کے معاملے کو بھی منصفانہ انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی بیسمنٹ اپارٹمنٹس کی تعمیر اور انہیں حفاظتی ضوابط کے مطابق بنانے پر خاصی لاگت آتی ہے، اس لیے اس شعبے میں حفاظتی تقاضوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی عمارت کا ایک حصہ باقاعدہ کاروباری مقصد کیلئے استعمال ہورہا ہے تو اس کے ٹیکس اور دیگر مالیاتی معاملات کا الگ جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ہر شہری کو یکساں رعایت دینے کے بجائے انفرادی صورت حال اور آمدنی کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

بونی کرومبی نے بلدیاتی اخراجات میں کمی کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے ہر محکمے کے بجٹ اور اخراجات کا جائزہ لینا چاہیے اور ایسے پروگراموں کو دوبارہ فعال کرنا چاہیے جن کے ذریعے سرکاری کام زیادہ مؤثر اور کم لاگت میں انجام دیے جاسکیں۔ ان کے مطابق ماضی میں ایسے اقدامات سے سالانہ 5 سے 7 ملین ڈالر تک بچت تلاش کی جاتی تھی، جبکہ بڑھتے ہوئے اخراجات کو قابو میں رکھنے کے لیے محکموں کو بچت کے واضح اہداف دینا ضروری ہے۔

انہوں نے آڈیٹر جنرل کی تقرری سے متعلق تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ آزادانہ مالیاتی جائزے کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کن شعبوں میں ضرورت سے زیادہ رقم خرچ ہورہی ہے اور کہاں وسائل کی کمی ہے۔ ان کے مطابق مختلف شہروں کے اخراجات اور طریقہ کار کا موازنہ کرکے بہتر انتظامی طریقے اپنائے جاسکتے ہیں۔

بونی کرومبی نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کی تقرری کی تجویز کونسل میں پیش کی گئی تھی، لیکن اسے مسترد کردیا گیا۔ ان کے بیان کے مطابق اس تجویز کو دیپیکا نے پیش کیا تھا اور میئر سمیت امیدوار ایلوِن نے بھی اس کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر مالیاتی معاملات شفاف ہیں تو اخراجات کا آزادانہ جائزہ لینے سے گریز کیوں کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی اداروں کو اپنے مالیاتی ریکارڈ اور اخراجات کی تفصیلات سامنے رکھنی چاہئیں تاکہ بچت کے امکانات واضح ہوسکیں۔

تقریب میں بونی کرومبی نے شہریوں سے گفتگو کے دوران ٹیکسوں، اخراجات، عوامی تحفظ اور بنیادی سہولیات سے متعلق اپنے مؤقف کی وضاحت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسی ساگا کے شہریوں کے پیسوں کو ذمہ داری سے استعمال کرنا بلدیاتی قیادت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور مالیاتی فیصلے اس بنیاد پر ہونے چاہئیں کہ شہریوں کو بہتر خدمات کیسے فراہم کی جاسکتی ہیں۔