پشاور سانحہ : بچے تو معصوم ہوتے ہیں!

روز لاشے اٹھا اٹھا کر ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ پشاور میں سکول کی چھت گرنے سے مر جانے والے 35 بچوں کی خبر کسی پہ اثر ہی نہیں کر رہی۔ ملک بھر میں کسی کو اس خبر پہ کوئی حیرت نہیں ہو رہی، کسی کے لیے یہ کوئی انوکھی یا غیرمعمولی بات نہیں۔ بچوں کے گھر کے علاوہ کہیں اس بات سے سوگ طاری نہیں ہوا۔ سب معمول کے مطابق چل رہا ہے۔35سے زائدبچے مر گئے ہیں ، انسانوں کے بچے۔ کوئی چیونٹی یا کیڑے مکوڑے نہیں اور یہ خبر کوئی اتنی خاص بریکنگ نیوز نہیں، اس خبر سے کہیں کوئی ہلچل نہیں،،، ہلچل ہو بھی کیوں؟ ہر طرف تو بے حسی چھائی ہوئی ہے،،، سرکار اپنی جگہ بے حس بنی ہوئی ہے، سیاستدان اپنی جگہ بے حس دکھائی دیتے ہیں،،، سکیورٹی اداروں کی بے حسی لامحدود ہو چکی ہے،،، تاجر اپنی جگہ بے حس دکھائی دے رہے ہیں،،، جبکہ عوام ان سب کی دیکھا دیکھی بھی اس قدر بے حس ہو چکی ہے کہ اب اُنہیں دو چار درجن معصوموں کی ہلاکتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا!

الغرض پشاور کی دیر کالونی میں سکول کی صرف چھت نہیں گری،کئی گھروں کی خوشیاں،ماؤں کے خواب اوروالدین کے جینے کے سہارے بھی ملبے تلے دب گئے۔ کسی ماں کو اپنے لختِ جگر کی فکر نے بے قرار کیا، کسی باپ کے قدم اپنے بچے کی آواز سننے کے لیے بے تاب ہوئے۔خبر ملی تو والدین دیوانہ وار سکول کی طرف لپکے،ہر چہرے پر خوف،ہر آنکھ میں امید اور ہر دل میں ایک ہی دعا تھی،یا اللہ! میرا بچہ زندہ ہو۔لیکن جب ملبے سے اپنے ہی جگرگوشوں کی جدائی کی خبر ملی تو جیسے وقت تھم گیا،سانسیں رک گئیں اورزندگی بھر کا سکون ایک لمحے میں چھن گیا۔ایک ایک خاندان کے پانچ پانچ بچے زندگی کی بازی ہار گئے،ہر گھر میں ایک الگ قیامت برپا ہوئی،ہر خاندان کی اپنی المناک داستان بنی۔اس سانحہ پر لکھتے وقت عجیب سی کیفیت ہو رہی ہے،،، لیکن سوچ رہا ہوں کہ جن بچوں کو صبح ماو¿ں نے پیار سے تیار کرکے سکول بھیجا تھا،جن کے بستے درست کیے تھے،جنہیں دعاو¿ں کے سائے میں رخصت کیا تھا،شام ہونے سے پہلے انہی بچوں کی جدائی کی خبر نے گھروں میں صفِ ماتم بچھا دی۔شہید ہونے والے بچوں میں سے کوئی پولیس افسر بننا چاہتا تھا، تو کوئی مذہبی سکالر لیکن خواب اس وقت ادھورے رہ جاتے ہیں جب انھیں دیکھنے والی آنکھیں اچانک بند ہو جائیں۔ان جنازوں کو ا±ٹھانے والے افراد کے پاس اب صرف اپنے بچوں کی یادیں ہیں اور کبھی نہ ختم ہونے والا انتظار۔اس واقعے میں ایک باپ اکرام اللہ کا 13 سالہ بیٹا بھی ہلاک ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’میرا دل اور دماغ دونوں کام نہیں کر رہے، مجھ سے یہ د±کھ برداشت نہیں ہو رہا۔‘اکرام اللہ اپنے بیٹے کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’اسے پولیس بہت پسند تھی اور وہ پولیس افسر بننا چاہتا تھا۔‘جبکہ ایک اور باپ کا کہنا ہے کہ وہ اُسے اچھی تعلیم کے لیے دوسرے شہر یا دوسرے ملک بھیجنے کا ارادہ رکھتا تھا،،، تاکہ وہ وہاں پر اپنے خواب پورے کر سکے۔ لیکن کسی کو کیا علم تھا کہ یہ بچے ریاست کی غفلت کی بھینٹ چڑھ جائیں گے! اور بقول شاعر
سنو!
ہمارے شہر پہ آسیب چھا رہا ہے ہماری گلیوں میں اور محلوں میں
خوف پاؤں جما چکاہے ہماری صبحوں کی روشنی
ہم سے چِھن گئی ہے ہمارے سر پر ہر ایک جانب
ردائے ظلمت تنی ہوئی ہے ہم اپنے پُرکھوں کے سب محاسن
گنوا چکے ہیں ہم اپنی نسلوں کی سب وراثت
لُٹاچکے ہیں
یقین مانیں! ایک وقت تھا جب شہر یا گاﺅں میں کسی حادثے میں اکا دکا ہلاکتیں ہو جاتیں تو ہم رات بھر نہیں سوسکتے تھے،،، لیکن ہمارے حکمرانوں نے ہمارے اندر بے حسی کس قدر کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے کہ اب درجنوں معصوم بچے بھی مارے جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا،،، اور سب کچھ ”اللہ کی مرضی“ پر ڈال دیا جاتا ہے،،، اللہ کی مرضی اپنی جگہ حق سچ ہے مگر کیا یہ بچے ہماری غفلتوں کی بھینٹ نہیں چڑھ گئے،،، ابھی دو ماہ قبل لاہور میں اسی قسم کا واقعہ ہوا تھا جہاں ٹیوشن سینٹر کی چھت گر گئی تھی اور اُس میں بھی 16، 17معصوم بچے نشانہ بنے تھے،،، اُس وقت بھی سرکاری ادارے تھوڑے بہت متحرک ہوئے تھے،،، لیکن اُس کے بعد کس نے اس جانب توجہ دی؟ کیا لاہور کے سکولوں یا کراچی یا پشاور یا دیگر شہروں کے سکولوں کا سروے ہوا؟ نہیں ہوا؟ اسی لیے نہیں ہوا کیوں کہ ہم کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے،،، چلیں! آپ ملک کے لیے نہ کریں مگر تھوڑی بہت انسانیت رہ گئی ہے یا وہ بھی ختم ہو گئی ہے؟ اُسی انسانیت کی خاطر ہی اپنے گردونواح کے سکولوں کو دیکھ لیں،،، آپ اندرون لاہور ہی وزٹ کر کے دیکھ لیں،،، خدانخواستہ ان پرانے شہروں میں کوئی اس قسم کا واقعہ رونما ہوگیا تو پھر درجنوں نہیں بلکہ خاکم بدہن ہم سینکڑوں بچوں کا نوحہ پڑھ رہے ہوں گے،،،

بہرحال پشاور کی تاریخ پھر ایک غمگین دن دکھ کے سائے تلے لکھی جارہی ہے،،، پشاور کی تاریخ متعدد داستانوں سے بھری پڑی ہے،،، اور یہ سانحات صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ہماری انتظامی لاپرواہی اور عمارتی بائی لاز (بلڈنگ کوڈز) پر عمل نہ کرنے کا المناک نتیجہ تھا۔ بوسیدہ عمارتوں میں سکولوں کا قیام اور سلامتی کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کرنا ایسے سانحات کو جنم دیتا ہے۔ اگر بروقت ان عمارتوں کی جانچ پڑتال کی جاتی تو شاید یہ 35 ننھے پھول یوں بے وقت مرجھانے سے بچ جاتے۔سرکار نے اس وقت جاں بحق بچوں کے لواحقین کے لیے فی کس دس لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے دو لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کیا ہے،تام سوگوار خاندانوں کے لیے مالی امداد ان کے بچوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ ان کے لیے سب سے بڑا نقصان وہ ہے جسے کوئی رقم واپس نہیں لا سکتی۔ اب ان گھروں میں بچوں کی ہنسی کی جگہ سسکیاں ہیں، بستوں اور کتابوں کی جگہ یادیں ہیں اور والدین کی آنکھوں میں ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب شاید کبھی نہ مل سکے۔

اور رہی بات سرکار کی تو میرے خیال میں اگر ان کی آپسی لڑائیاں ختم ہوں تو یہ عوام کے بارے میں بھی سوچ سکیں،،، اُن کے معیار زندگی کے بارے میں سوچ سکیں،،، اُنہیں ریلیف دینے کے بارے میں سوچ سکیں،،، اُنہیں تعلیم جیسی بنیادی ضروریات دینے کے بار ے میں سوچ سکیں،،، وہ یہ سوچ سکیں کہ اس وقت ہمارے تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں،،، وہ یہ سوچ سکیں کہ اس وقت 60فیصد تعلیم کا بوجھ پرائیویٹ مافیا نے اُٹھا رکھے ہیں،،، جو من مرضی کی عمارتوں میں بچوں کو ٹھونس ٹھونس کر رکھتے ہیں،،، اور اُن کی شکایات کا مناسب انتظام بھی موجود نہیں ہے،،، اور پھر یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ جب ان عمارتوں میں حادثات ہو جاتے ہیں تو پھر ہماری حکومتیں ایسے افسوسناک سانحات رونما ہونے کے بعد ہی کیوں متحرک ہوتی ہیں؟ سکول کی عمارت کی حفاظت محض مالک کی ذمہ داری نہیں بلکہ ریاست کی نگرانی اور ضابطہ کاری سے بھی براہِ راست تعلق رکھتی ہے۔ متعلقہ اداروں کو نجی سکولوں کو این او سی جاری کرنے سے پہلے عمارت کی بنیادوں‘ ستونوں‘ چھتوں‘ دیواروں‘ تعمیراتی مواد اور مجموعی ساخت کی جانچ پڑتال مستند سول انجینئرز سے کرانی چاہیے۔ صرف کاغذی کارروائی یا رسمی معائنے کی بنیاد پر کسی عمارت کو تدریسی سرگرمیوں کیلئے محفوظ قرار دینا بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح نئے سکولوں کے علاوہ پہلے سے قائم شدہ تعلیمی اداروں کی بھی مرحلہ وار جانچ ضروری ہے‘ خصوصاً ان عمارتوں کی جو پرانی‘ خستہ حال یا غیر منظور شدہ اضافی تعمیرات کی حامل ہوں۔ مستقبل میں ایسے سانحات کیلئے تدارک کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت تمام سرکاری و نجی سکولوں‘ مدارس اور ٹیوشن سنٹروں کا جامع سروے کرانا چاہیے۔ ہر ضلع میں مستقل انسپکشن ٹیمیں تشکیل دی جائیں‘ جو مقررہ مدت میں عمارتوں کا معائنہ کریں اور اپنی رپورٹ متعلقہ تعلیمی و تعمیراتی حکام کو جمع کرائیں۔ اگر ایسا کوئی نظام پہلے سے موجود ہے تو اسے فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ پشاور سانحے کی تحقیقات کیلئے کمیٹیاں ضرور تشکیل دی جائیں مگر اصل امتحان یہ ہے کہ اس کے نتائج کی بنیاد پر ملک بھر میں حفاظتی نظام کی اصلاح کی جاتی ہے یا یہ معاملہ بھی چند روزہ خبروں اور سرکاری بیانات کے بعد فراموش کر دیا جاتا ہے۔ بچوں کی جان کسی بھی انتظامی غفلت‘ مالی مفاد یا ادارہ جاتی بے حسی سے زیادہ قیمتی ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کو اب یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ سانحات پر محض افسوس کا اظہار کرنے کے بجائے ان کی روک تھام کا عزم اور صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔

بہرکیف یہ صرف ایک سکول کی عمارت گرنے کا حادثہ نہیں، کئی خاندانوں کی دنیا اجڑنے کا سانحہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر عمارت خستہ حال تھی تو بچوں کی زندگیاں خطرے میں کیوں ڈالی گئیں؟ حفاظتی انتظامات کس نے جانچے؟ اور ذمہ داروں کا تعین کب ہوگا؟معصوم بچوں کی جانیں واپس نہیں آ سکتیں، لیکن شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی شاید کسی دوسرے گھر کو ایسی قیامت سے بچا سکے۔ آج پشاور کے سوگوار خاندانوں کو صرف تعزیت نہیں، انصاف بھی چاہیے تاکہ کسی اور ماں کی گود نہ اجڑے ، کسی اور باپ کو اپنے جگر گوشوں کی لاشیں نہ اٹھانا پڑیں۔اس لیے ابھی بھی وقت ہے کہ معصوم بچوں کی حفاظت اور ان کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول کی فراہمی ریاست اور معاشرے دونوں کی بنیادی ذمہ داری ہے،،، کیوں کہ یہ تو خدائی سچ ہے کہ بچے تو معصوم ہوتے ہیں،،، جنہیں شدید ترین جنگوں میں مارنے کی بھی اجازت نہیں ہوتی!