ہمسایوں سے زندگی میں ہی مل لیں

میرے ہم وطنوں میں احساس زیاں موجود ہے اللّٰہ تعالیٰ کا ہزار شکر کہ متاع کارواں جاتا نہیں رہا۔

گزشتہ ایک دو ہفتے صرف اسلام آباد ،پنڈی والوں کے ہی نہیں ہمارے بھی بہت مصروف گزرے۔ ہم اپنے ہم عصروں اپنی آئندہ نسلوں ماؤں بہنوں بیٹیوں کی آنکھوں میں جھانکتے رہے۔ بہت چمک ہے ۔بہت دمک ہے۔ کہیں کہیں تو کڑک بھی ہے اور دہک بھی ۔کچھ آنکھیں آگ لگانے کیلئے بے تاب ہیں ۔کچھ میں جذب ہے اور جذب بھی کمال کا ۔

آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہوؤں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر بیٹھنے اور ڈھیر ساری باتیں کرنے کا دن۔اولادوں کے ذہنوں میں بہت سے سوالات ہوتے ہیں۔ آپ بھی اپنی تگ و دو میں رہتے ہیں ،بچے بھی۔ اسلئے ہفتے میں ایک دن ضرور وقت نکالیں ۔ان کے ذہنوں کو ان الجھنوں سے نجات دلائیں زمانہ بہت نازک ہے،ہر ایک کے ہاتھوں میں اسمارٹ فون ہے۔ جہاں ہر سوال کا جواب موجود ہے مگر یہ جواب آپ کے ماحول تمدن اور ثقافت کے حوالے سے نہیں ہے ۔وہاں تناظر زیادہ تر مغربی ہے اور بالخصوص امریکی۔ اس میں غیر جانبداری نہیں ہے حقیقت سے گریز، اپنی حاشیہ آرائی ۔اسلئے آپ کی طرف سے جوابات ضروری ہیں۔ مہینے میں ایک بار دسترخوان اور وسیع کر لیں۔اپنے بہن بھائیوں کو ان کی اولادوں کو بھی بلا لیں۔

میری یہی درخواست آپ سے محلے داری کیلئے بھی ہے۔ بہت المیے برپا ہو رہے ہیں۔خاص طور پر بڑے شہروں میں جہاں لاکھوں انسان رہتے ہیں ۔ دوسرے شہروں سے بھی چھوٹے چھوٹے خاندان روزگار اور مواقع کی تلاش میں یہاں آ کر آباد ہو جاتے ہیں ۔کتنی امنگیں اور تمنائیں لے کر آتے ہیں۔ کراچی ،لاہور ،ملتان، حیدرآباد ،پشاور بہت فراخدل ہیں۔ ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ کچھ کو روزگار بھی مل جاتا ہے اگر ان کے اپنے شہروں ،قصبوں، دیہات میں ان خاندانوں کو باعزت روزگار مل جائے تو وہ ان اجنبی مقتلوں کا رخ کیوں کریں۔ پہلے تو ان چھوٹے شہروں کے ہم وطنوں کو ہی چاہیے کہ وہ اپنے اپنے محلے داروں اپنے رشتہ داروں کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ انہیں بڑے شہروں کی بے حسی کی نذر نہ ہونے دیں۔ اپنے ان سب شہروں میں اگر صنعتیں لگ رہی ہوں ۔مقامی فصلوں کے مطابق روزگار کے وسائل مرتب کیے جا رہے ہوں۔ مقامی معدنیات کے مطابق کارخانے لگے ہوں تو ترک شہر کا رجحان از خود ختم ہو سکتا ہے ۔ہماری قومی سیاسی جماعتوں کی بے خیالی اور کم نظری۔ پھر اداروں کی کوتاہیاں۔ یہ پہلے ترک شہر کروا رہی ہیں۔ اپنی جڑوں سے دور کرتی ہیں۔ پھر جب بڑے بڑے شہروں میں اماں نہیں ملتی تو ترک وطن کی خواہش بے قرار کر دیتی ہے ۔حکمرانوں، انتخابیوں اور منصوبہ سازوں کی مجرمانہ بے اعتنائی نے اکثریت کو پریشان کر رکھا ہے۔ آپ سنتے ہیں پڑھتے ہیں۔ عالمی بینک کی رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستان میں اس خطے کے آدھے غربت زدگان رہتے ہیں ۔غربت بھی بہت شدید قسم کی ۔جن کی روزانہ آمدنی چھ سات سو روپے بھی نہیں رہی۔ جبکہ خرچے ہر روز کے کئی کئی ہزار کے ہیں ۔حکمرانوں کا منصب صرف یہ رہ گیا ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین پر عرصہ حیات تنگ کیا جائے۔ جائز اختیارات بھی ان سے چھین لیے جائیں۔ وہ اور ان سے وابستگان ایک ایک روٹی کو ترسیں۔ کوئی مہذب ملک ہو جسکی اشرافیہ جسکے حکام خوف خدا رکھتے ہوں انہیں تو 100 میں سے 48 کے قلاش ہونے کی خبر کے بعد سونا ہی نہیں چاہیے ۔غربت کے دشمن کیخلاف ڈھال بن جانا چاہیے۔چہ جائیکہ غربت کے خاتمے کیلئے آنے والی گرانٹس بھی اپنی جیبوں میں بھرتے رہیں۔

خدا نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے

ایسی بے بسی کےدور میں تو محلے داری، خیال ہم نفساں اور زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔ کراچی میں ایک اور غریب علاقے میں خاندان کی موت سامنے آئی ہے۔ میں تو حیران ہوں کہ جب انسان زندہ ہوتے ہیں اور خوشبوئیں دے رہے ہوتے ہیں اس وقت ہمیں کوئی کشش نہیں ہوتی۔ ان کے در پر دستک دے کر ان خوشبوؤں کو اپنے دل میں نہیں اتارتے ۔جب ان ہمسایوں کے جسم سے روح نکل گئی ہوتی ہے ۔پھر بدبو پھیلتی ہے تو ہم انکے دروازے توڑ کر موت کا منظر دیکھنے کو بے چین ہو جاتے ہیں اس وقت ان جانے والوں کیلئے ہماری تگ و دو بے ثمر ہوتی ہے۔ میری درخواست یہی ہے کہ ہفتے میں ایک بار تو پڑوسی سے اس کا حال احوال پوچھ لیں۔شاہ لطیف۔ بلھے شاہ۔ سلطان باہو۔ رحمان بابا مست توکلی یہی درس دیتے رہے ہیں۔

آپ کے آس پاس اگر کوئی کنبہ ایسی بدحالی کا سامنا کر رہا ہے ان بے بسوں کے کرب کے ذمہ دار ہم اور آپ بھی ہیں ۔اس علاقے کا کونسلر بھی۔ یونین کونسل کا چیئرمین بھی۔ شہر کا میئر بھی صوبے کا وزیراعلیٰ ،گورنر، وزیراعظم اور صدر بھی۔ عالمی معاملات سنبھالنے کے دعوے دار امریکی صدر بھی اور وہ تمام ملکی صدور وزرائےاعظم جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنےکیلئے کروڑوں ڈالر خرچ کر کے نیویارک میں ستمبر میں جمع ہوتے ہیں۔ خاص طور پر عرب ملکوں کے بادشاہوں ،امیروں اور صدور کو اپنے شہریوں کی بے بسی کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں کی مظلومیت اور بربادی کیلئے بھی جواب دہ ہونا ہے ۔ نہ جانے میرا وجدان مجھے کیوں غربتوں، مشقتوں اور مظلومیوں میں لے گیا۔ارادہ تویہ تھا کہ سینئر صحافی ایڈیٹر شیخ عزیز کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جو تقریب منعقد ہوئی اس کا ذکر کرتے ۔ان کےسعادت مندصاحب زادے طارق عزیز شیخ کا شکریہ ادا کرنا تھا اور عزیز شیخ صاحب کی بیٹیوں کا جنہوں نے اپنے عظیم والد کی برسی شایان شان طریقے سے منائی ۔پھر سعادت مند فرزند فرید ایس ایم مسعود نے نجم السحر ناول کی رونمائی کیلئے خوبصورت محفل برپا کی۔ 70 سال لگے اس ناول کو لکھنؤ سے کراچی پہنچنے میں۔ بہت باوقار تقریب تھی آرٹس کونسل کی جوش ملیح آبادی لائبریری میں جہاں فاطمہ حسن حرف کی حرمت کا خیال رکھتی ہیں۔ کراچی پریس کلب کے ’’جو ہم پہ گزری‘‘ سلسلے میں ہماری بھی آٹھ دہائیوں کی صحافتی اور ادبی کاوشوں کی روداد سنی گئی۔

پھر ماہر تعلیم نوشابہ صدیقی نے ابراہیم جلیس۔ ابن انشا اور زاہدہ حنا کی کالم نویسی کی پذیرائی کیلئے بہت شایان شان تقریب کا اہتمام کیا۔ جمیل جالبی لائبریری کے پرشکوہ ماحول میں ڈاکٹر سید جعفر احمد، حمیرہ اطہر،یاسمین سلطانہ فاروقی اور شہریار جلیس نے اپنی اپنی یادیں تحریری شکل میں پیش کیں ۔ حالات کی تندی اور تیزی نے خوبصورت لمحات کو آپ تک پہنچانے نہیں دیا۔عالم ایسا ہی ہےکہ لوگ عشق جیسی ضروری چیز بھی بھول جاتے ہیں ۔سعدی شیرازی یاد آتے ہیں۔

چناں قحط سالے شد اندر دمشق
کہ یاراں فراموش کردند عشق

مگر بدحالی اور انتشار کے باوجود ہماری اشرافیہ کے عشق جاری ہیں۔