امریکا پاکستان کے معدنی وسائل کی ترقی میں ترجیحی شراکت دار بننا چاہتا ہے: نیٹلی بیکر

اسلام آباد (ٹی سی ایم پوڈکاسٹ، خبر ایجنسیاں)امریکا کی قائم مقام ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کے اہم معدنی وسائل کی ترقی میں ترجیحی شراکت دار بننا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان تانبے، سونے، نایاب ارضی عناصر اور جدید ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والی دیگر معدنیات سے مالا مال ہے، جن کی تلاش اور ترقی میں امریکی کمپنیاں سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کردار ادا کر سکتی ہیں۔

نیٹلی بیکر نے ٹی سی ایم کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے معدنی وسائل کی ممکنہ مالیت کے حوالے سے کہا کہ بعض اندازوں کے مطابق یہ مالیت 7 ہزار ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ تاہم یہ رقم معدنی وسائل کی ممکنہ قدر سے متعلق تخمینہ ہے، ثابت شدہ اور قابلِ استخراج ذخائر کی حتمی مالیت نہیں۔

امریکی سفارت کار کے مطابق امریکی کمپنیوں کا مقصد صرف پاکستان سے معدنیات خرید کر واپس چلے جانا نہیں، بلکہ ایسے وسیع صنعتی نظام کی تشکیل میں مدد دینا ہے جس سے معدنی وسائل کی تلاش، کان کنی، تیاری اور عالمی منڈیوں تک رسائی ممکن ہو۔ اس تعاون میں جدید سروے اور تلاش کی ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، مقامی افرادی قوت کی تربیت اور ضروری بنیادی ڈھانچے کی ترقی شامل ہو سکتی ہے۔

نیٹلی بیکر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معدنی وسائل سے وابستہ سرمایہ کاری کے فوائد مقامی آبادی تک پہنچنے چاہئیں۔ ان کے مطابق معدنیات سے مالا مال علاقوں، بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا، میں مقامی افراد کو تربیت دے کر کان کنی اور اس سے متعلق صنعتوں میں روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ سڑکوں، شاہراہوں، ریل کے نظام اور دیگر بنیادی سہولیات کی ترقی بھی اس شعبے کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔

انہوں نے پاکستان میں معدنیات کے شعبے کو امریکی سرمایہ کاروں کے لیے مواقع کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری سے دونوں ممالک کو معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ تانبے اور سونے کے علاوہ نایاب ارضی عناصر بھی جدید صنعت، الیکٹرانکس، توانائی اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اہمیت رکھتے ہیں۔

پاکستان کے معدنی وسائل میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے، تاہم ان وسائل کو معاشی فائدے میں تبدیل کرنے کے لیے تفصیلی ارضیاتی تحقیق، بھاری سرمایہ کاری، جدید تکنیکی صلاحیت، بنیادی ڈھانچے اور مؤثر ضابطہ جاتی نظام کی ضرورت ہے۔ نیٹلی بیکر کے بیان میں کسی نئے مخصوص منصوبے، سرمایہ کاری کی طے شدہ رقم یا حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔