ٹورنٹو/اوٹاوا (سی بی سی ریڈیو، میٹرو مارننگ)کینیڈین رکنِ پارلیمنٹ اقراء خالد نے سی بی سی ریڈیو کے پروگرام میٹرو مارننگ میں میزبان ڈیوڈ کومن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی کنارےکے مجوزہ دورے پر جانے والے وفد کے تمام ارکان نے مکمل شفافیت کے ساتھ اپنی وابستگیاں ظاہر کیں اور کینیڈا سے روانگی سے قبل تمام ضروری منظوریوں اور سرحد عبور کرنے کی اجازت حاصل تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی تنظیم کی نمائندگی نہیں کرتیں بلکہ بحیثیت رکنِ پارلیمنٹ کینیڈا اور کینیڈین عوام کی نمائندہ ہیں۔

اقراء خالد کے مطابق وفد کا مقصد زمینی حقائق کا جائزہ لینا، کینیڈین حکام سے ملاقاتیں کرنا، اور مسیحی، یہودی اور مسلم خاندانوں سے براہِ راست مل کر انسانی صورتحال کو سمجھنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وفد مسجد اقصیٰ، چرچ آف نیٹیوٹی اور مقامی علاقوں کا دورہ کر کے یہ جاننا چاہتا تھا کہ کینیڈین امداد کو کس طرح زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
سرحد پر پیش آنے والے واقعات کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کرتے ہوئے اقراء خالد نے کہا کہ وہ اُن لوگوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہیں گی جن کی اپنی آواز نہیں۔ ان کے بقول، جمہوریتوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ تمام خودمختار ریاستوں پر لازم ہے کہ وہ قواعد پر مبنی عالمی نظام کے تحت احتساب، شفافیت اور انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کینیڈا، اسرائیل اور دیگر ممالک سب کی اس ضمن میں ذمہ داریاں ہیں، اور ایک رکنِ پارلیمنٹ کے طور پر یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مکالمے میں مؤثر کردار ادا کریں اور کینیڈین عوام کی توقعات پر پورا اتریں، اندرونِ ملک بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی۔

