ٹورنٹو (اشرف خان لودھی سے)بین الاقوامی مشاعرہ “کاروانِ شعر و سخن” اتوارکے دن شام 5بجے منعقدکیاگیا، جس میں دنیا بھر سے معروف شعراء شریک ہوئے ۔” کاروانِ شعر و سخن”میں شائقین کیلئےداخلہ فیس نہیں رکھی گئی تھی اور نشستوں کیلئے پہلے آئیے اورپہلے پائیے کی شرائط رکھی گئیں تھیں۔مشاعرہ کی صدارت ڈاکٹرسیدتقی عابدی نے کی ۔بشریٰ بلال تقریب کی مہمان خصوصی کی حیثیت سے مشاعرہ میں شریک تھیں، پروگرام میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شعرا اپنا کلام پیش کیا۔ شعرامیں دبئی سے ڈاکٹرزبیرفاروق العرشی نے خصوصی طورپرمشاعرہ میں شرکت کی اوراپناکلام سناکرحاضرین سے خوب دادوصول کی ۔ان کے علاوہ بشارت ریحان،سیماہاشمی ،شاہینہ کشور،رکن صوبائی اسمبلی دیپک آننداورشیرف صباوی، وزیراعظم آزاد کشمیر کے مشیربرائے کینیڈااورپاکستان پیپلزپارٹی کینیڈاکے صدرچوہدری جاوید گجر سمیت قونصل جنرل پاکستان خلیل احمدباجوہ نے مشاعرہ میں شریک ہوکرحاضرین سے خطاب کیا۔

مشاعرہ کے منتظم بشارت ریحان نے گفتگوکرتے ہوئے خاص شاعرانہ اندازمیں مشاعرہ کے صدرسے اجازت طلب کرتے ہوئےحاضرین اورناضرین کومخاطب کرتے ہوئے کہااسلام علیکم ،اداب اورست سری اکال اورمیں یہاں بتاتاچلوں کے یہ انٹرنیشنل مشاعرہ براہ راست ٹیلی کاسٹ ہورہاہے اس لئے مجھے حاضرین کے ساتھ ناضرین کوبھی مخاطب کرناپڑا۔آج یہاں ایک تاریخی عالمی مشاعرہ جس کی صدارت ڈاکٹرسیدتقی عابدی کررہے ہیں آج کی یہ محفل ڈاکٹرتقی عابدی کی ذات سےمزین ہے۔ یہاں میں ضروری سمجھتاہوں کہ اپنے دوستوں کوبتاتاچلوں کہ ڈاکٹرتقی عابدی نے 75سے زائدکتابیں لکھی ہیں آپ نامورمحقق ہیں اورآپ کی علمی خدمات کااعتراف دنیابھرمیں کیاجاتاہے ۔میں ان کوخراج تحسین پیش کرتاہوں ۔یہ ہمارے لئے اعزازکی بات ہے کہ دنیاکے نامورشعرامختلف ممالک سے یہاں ٹورنٹومیں جمع ہیں۔

میں ان سب کوخوش آمدیدکہتاہوں امریکہ سے باسط جلیلی ،ڈاکٹرآصف قدیر،عابدرشید،اعجازحسین بھٹی،اویس ساجد،ڈاکٹرریحانہ قمر ،تانیہ الطاف ،نیلماتصور،قطرسے ثمرین ندیم ثمر،جرمنی سے عاطف توقیر،پاکستان سے رفیع الدین راز،سیدناصرعلی شاہ ،افضال حبیب ،رشیدندیم ،قیصروجدی ،ڈاکٹرجگ موہن سانگا ،ڈاکٹرسلمان اطہر،توقیراحمدخان کوبھی خوش آمدیداوریہاں میں اگراپنے پرنٹ اورالیکٹرونک میڈیاکے دوستوں کاذکرنہ کروں تومناسب ناہوگا۔عرفان بابا،مصطفیٰ کیانی ،بدرمنیرچودھری اوربہت ہی خاص اشرف خان لودھی ہم دونوں ایک ہی گائوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔آپ کے قلم کی طاقت اورکیمرے کے آنکھ ہمارے اس ملک کی تاریخ بننے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس مشاعرہ کی کامیابی کے پیچھے اپنے دوست مرزانسیم بیگ ،قیصروجدی ،آصف جاوید ،شعیب ناصر ،عبدالحمیدحمیدی ،شاہدہاشمی اورحمیراکانمایاں ہاتھ ہے انہوں نے جس محنت اورلگن سے مشاعرہ کی کامیابی کوممکن بنایامیں تہہ دل سے ان کاشکریہ اداکرتاہوں ۔عقیل انصاری کیلئے ڈھیروں دعائیں اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ عطاکرے ۔

ٹورنٹومیں قونصل جنرل پاکستان خلیل احمدباجوہ نے تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہاآج کی یہ شام میرے لئے باعث سعادت ہےکہ جس محفل میں شریک ہوں وہاں پرناصرف مقامی شعراکے ساتھ ساتھ دیگرممالک سے بھی خواتین وحضرات سخن ورموجودہیں۔میں سمجھتاہوں کہ شعروسخن کی اس محفل میں جس کثیرتعدادمیں آپ لوگ شریک ہیں اس سے اندازہ ہوتاہے کہ آپ خواتین وحضرات کوبھی اس فنون لطیفہ سے گہراشغف ہے۔شعروادب کی اس محفل میں آپ یقیناً ایک لطیف کیفیت میں ہونگے لہذٰامیں اپنی ثقیل تقریرسے اس تقریب کے ماحول کوبوجھل نہیں کرناچاہتااوراپنی طرف سے اس تقریب کے تمام منتظمین بشارت ریحان ان کی تمام ٹیم کوخراج تحسین پیش کرتاہوں ۔جنہوں نے آج کی یہ خوبصورت شام میرے لئے آپ کیلئے ہم سب کیلئے سجائی ۔میں یہاں موجودتمام شعراجومختلف ممالک سے یہاں جمع ہوئےمیں ان سب کوخراج تحسین پیش کرتاہوں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئےمسّی ساگا اسٹریٹس وِل سے رکن پارلیمنٹ ریچی ویلڈیزجوکہ وفاقی وزیر برائے خواتین و صنفی مساوات ہونے کیساتھ سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے اسمال بزنس و سیاحت بھی ہیں نے کہا ہے کہ کینیڈا کی متنوع اور بھرپور ثقافتی برادریاں اظہارِ ثقافت کی خوبصورت مثال ہیں، ایسے ادبی پروگرام مقامی اور عالمی آوازوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتے ہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اردو شاعری ہماری کثیر الثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہے اور کینیڈا میں مقیم افراد اس روایت کو نئی نسلوں تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مہمانوں کی شرکت اس تقریب کو مزید خاص بناتی ہے، مختلف ثقافتوں اور روایات کا امتزاج معاشروں کو قریب لانے میں مدد دیتا ہے۔ریچی ویلڈیز کا کہنا تھا کہ شاعری میں لوگوں کو جوڑنے، احساسات کے اظہار اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی منفرد صلاحیت موجود ہے، جو آج کے تقسیم شدہ ماحول میں مزید اہم ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مارک کارنی کی قیادت میں کینیڈا اپنی متنوع برادریوں کی طاقت پر یقین رکھتا ہے اور ایک مضبوط معاشرے کی تعمیر کیلئے پرعزم ہے۔
مسی ساگامالٹن سے صوبائی اسمبلی کے رکن دیپک آنندنے سب مہمانوں کوخوش آمدیدکہتے ہوئے کہا سب کواسلام علیکم ،ست سری اکال اورنمشکارکہتاہوں اس طرح کی محفلیں کیمونٹی کیلئے بہت اچھی ہوتی ہیں اورمیں ہمیشہ بتاتاہوں کہ میرے امی اورابودونوں گوجرنوالہ سے ہیں میرے والد7سال کے تھے اورمیری والدہ 2سال کی تھیں۔ایک باروالدکواردوپڑھتے دیکھاتوپوچھاکہ آپ اردوپڑھ رہے ہیں توبولے نہیں میں پنجابی پڑھ رہاہوں میں نے کہایہ تواردومیں لکھی ہے یہ بات میرے لئے نئی تھی کیونکہ میں یہی سمجھتاتھاکہ پنجابی زبان جوہے وہ گرمکھی میں لکھی جاتی ہے ۔پنجابی ایک مکمل زبان ہے اورایک جگہ پرہوتے ہوئے دوپنجابیوں کوایک ساتھ جمع کرناایک بڑاکارنامہ ہے ۔میرادل بھی کررہاہے کہ ایک شعرتوپڑھو وہ کچھ یوں ہے ۔
زندگی سے پہلے بھی زندگی کے بعدبھی
جوہے وہی اصلی ہے
توزندگی میں اتناشورکیوں ہے
اوراتنی ماراماری کیوں ہے
مسی ساگاایران ملزسے رکن صوبائی اسمبلی شیرف صباوی نے گفتگوکاآغازاس طرح کیاکہ میں تویہ زبان نہیں بول سکتامگریہاں کینیڈامیں کمیونٹی کیلئے بہت سے مواقع ملتے رہتے ہیں کہ وہ ایک ساتھ جمع ہوکرمختلف تہوار،اپنے کھانے اوراپنے رسم ورواج کوفروغ دیں۔یہی نہیں بلکہ ایسے پروگرامزمیں ایک دوسرے سے ملنے سے اپنے تجربات پرتبادلہ خیال کیاجاسکتاہے ۔میں جب کینیڈاآیاتوبتایاگیاکہ یہاں انڈین کیمونٹی رہتی ہے پھرجب مسی ساگاآیاتومعلوم ہوایہاں پانچ ہزارانڈینزہیں پھرآہستہ آہستہ معلوم ہوتاگیاکہ یہاں بہت سی مختلف برادریاں بسی ہیں جن کے رسم ورواج ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔یہ محفل ادب، اظہار اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کیلئےمنعقد کی جا رہی ہے، جس میں شعر و سخن سے دلچسپی رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد کیشریک ہوگی۔

