پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باعث PIAچلانامشکل ہوگیا : عارف حبیب

کراچی (وقائع نگارخصوصی)معروف کاروباری شخصیت عارف حبیب نے نجی ٹی وی کوانٹرویودیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ہر پاکستانی متاثر ہوا ہے کیونکہ زیادہ تر لوگ موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہیں۔جیٹ فیول کی قیمت میں 150فیصد اضافے کے بعد PIAکوچلانامشکل ہوگیا ہے.

انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں نہ صرف پاکستان بلکہ تمام تیل درآمد کرنے والے ممالک متاثر ہوں گے کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث مہنگائی میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور اس کے اثرات عام آدمی پر شدید پڑ رہے ہیں۔

عارف حبیب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پیٹرولیم قیمتوں میں جتنا اضافہ ہوا ہے وہ عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں کم ہے، حکومت نے کچھ بوجھ خود برداشت کیا، کچھ کراس سبسڈی کے ذریعے اور کچھ ترقیاتی اخراجات کم کرکے پورا کیا کیونکہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں ہے اور اسے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے مکمل بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا اور تقریباً 69 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، تاہم یہ پالیسی زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتی اور حکومت کو مزید اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ قیمتوں کا کچھ حصہ منتقل کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ ہائی آکٹین اور ایوی ایشن فیول کی قیمتوں میں اضافہ کرکے کراس سبسڈی دینے کی کوشش کی گئی، تاہم ایوی ایشن فیول کی قیمت میں 150 فیصد اضافے سے ہوائی کرایوں میں 60 سے 80 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے اور اس سے پاکستانی ایئرلائنز کی عالمی مسابقت بھی متاثر ہوگی۔

عارف حبیب نے کہا کہ بجلی اور گیس کے شعبے نسبتاً بہتر ہیں کیونکہ ماضی میں متبادل توانائی جیسے سولر اور ونڈ میں سرمایہ کاری ہوئی ہے جس سے پیٹرول پر انحصار کم ہوا ہے، جبکہ گرمیوں میں گیس کی طلب بھی کم رہتی ہے۔

اصل مسئلہ پیٹرول کا ہے اور اس کیلئے عوام کو بچت کی عادت اپنانا ہوگی کار پولنگ، پبلک ٹرانسپورٹ اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا جبکہ بڑی گاڑیوں کے استعمال سے بھی گریز کرنا چاہیے۔

انہوں نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کو پیٹرول کے استعمال میں کمی کیلئے ایک مؤثر اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ورک فرام ہوم، مشترکہ سفر اور غیر ضروری نقل و حرکت میں کمی سے تیل کی کھپت کم کی جا سکتی ہے۔

عارف حبیب نے کہا کہ پاکستان کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر عالمی تنازع طویل ہوگیا تو مسائل مزید بڑھ جائیں گے، اس لیے ضروری ہے کہ حالات جلد معمول پر آئیں تاکہ مارکیٹ مستحکم ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری نہ آنے کی بڑی وجوہات زیادہ ٹیکس، مہنگی توانائی اور بلند شرح سود ہیں، جس کے باعث ملک سرمایہ کاری کیلئے پرکشش نہیں رہا، جبکہ معاشی نظم و ضبط برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ حکومتی خسارہ کم ہو اور معیشت مستحکم رہ سکے۔