ٹورنٹو(اشرف خان لودھی سے)پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کے بعد انتظامی کنٹرول کی منتقلی اور معاہدے کی تکمیل کا عمل ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، تاہم ہوا بازی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض حفاظتی اور ریگولیٹری تقاضوں کی بروقت تکمیل نہ ہونے کی صورت میں 8 جون کو متوقع معاہدہ تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور خریدار کنسورشیم کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی تکمیل کیلئے 40 سے زائد قانونی، مالیاتی، ریگولیٹری اور آپریشنل شرائط رکھی گئی تھیں جن میں بین الاقوامی منظوریوں، طیارے لیز پر فراہم کرنے والی کمپنیوں کی رضامندی، حفاظتی معاہدوں کی تجدید اور مختلف آپریشنل تقاضوں کی تکمیل شامل ہے۔ اگر ان میں سے کسی اہم شرط کی بروقت تکمیل نہ ہو سکی تو انتظامی کنٹرول کی منتقلی اور معاہدے کے پہلے مرحلے میں تاخیر کا خدشہ موجود ہے۔
باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ خریدار کنسورشیم حکومت سے آئندہ بجٹ میں بعض خصوصی مراعات کا بھی خواہاں ہے تاکہ قومی ایئرلائن کو تجارتی بنیادوں پر مستحکم بنایا جا سکے۔ کنسورشیم چاہتا ہے کہ نئے طیاروں کی خریداری یا لیز کے حصول کیلئے ٹیکس اور ڈیوٹیوں میں سہولت دی جائے تاکہ عالمی طیارہ ساز کمپنیوں کے ساتھ بہتر شرائط پر معاہدے ممکن ہو سکیں۔
ذرائع کے مطابق کنسورشیم کا مؤقف ہے کہ پی آئی اے کی کامیاب بحالی اور توسیع کیلئے آئندہ چند برسوں میں فلیٹ میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہوگا، جبکہ طیاروں کیلئے استعمال ہونے والے جیٹ ایندھن کی قیمت بھی ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر حکومت علاقائی ممالک کے مقابلے میں مہنگے جیٹ ایندھن کی قیمتوں میں کمی یا خصوصی رعایت فراہم کرے تو قومی ایئرلائن کو بین الاقوامی منڈی میں مسابقتی برتری حاصل ہو سکتی ہے۔
ہوابازی کے ماہرین کے مطابق موجودہ مرحلے میں سب سے اہم عنصر بین الاقوامی حفاظتی معیار کی تکمیل ہے، جس میں انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے آپریشنل سیفٹی آڈٹ (آئی او ایس اے) کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ آئی او ایس اے دنیا بھر میں ایئرلائنز کے حفاظتی اور آپریشنل معیار کا معتبر پیمانہ سمجھا جاتا ہے اور متعدد ممالک، ریگولیٹری ادارے، کوڈ شیئر شراکت دار اور طیارے لیز پر دینے والی کمپنیاں اسے بنیادی شرط تصور کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پی آئی اے آئی او ایس اے کے مطلوبہ معیار پر پورا نہ اتر سکی تو نئے بین الاقوامی روٹس کے حصول، دیگر ایئرلائنز کے ساتھ شراکت داری، اضافی طیاروں کی لیزنگ اور فلیٹ میں توسیع کے منصوبوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نجکاری کے بعد نئے سرمایہ کار انتظامی اصلاحات، انجینئرنگ کے نظام، فلائٹ آپریشنز، سیفٹی مینجمنٹ اور عملے کی تربیت پر خصوصی توجہ دینے کے خواہاں ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 8 جون کے قریب متوقع بعض اہم معاہداتی مراحل اور حفاظتی منظوریوں کی تکمیل کو بھی آئی او ایس اے تقاضوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کیونکہ سرمایہ کار مستقبل میں یورپ، برطانیہ، شمالی امریکا اور دیگر منافع بخش بین الاقوامی روٹس پر توسیع کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
ہوابازی کے شعبے کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پی آئی اے کی نجکاری کی کامیابی صرف ملکیت کی منتقلی تک محدود نہیں بلکہ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایئرلائن بین الاقوامی حفاظتی معیار، ریگولیٹری تقاضوں اور تجارتی اہداف کو کس حد تک پورا کر پاتی ہے۔
ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ 2020 میں پائلٹ لائسنسوں سے متعلق تنازع اور حفاظتی نگرانی پر اٹھنے والے سوالات کے بعد یورپی اور برطانوی حکام نے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے باعث قومی ایئرلائن اپنے کئی منافع بخش بین الاقوامی روٹس سے محروم ہو گئی تھی اور اسے بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔ اسی تناظر میں موجودہ نجکاری کے عمل میں آئی او ایس اے سمیت دیگر بین الاقوامی حفاظتی تقاضوں کی تکمیل کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔
نجکاری کمیشن کے مطابق بیشتر شرائط پوری کی جا چکی ہیں اور باقی ماندہ منظوریوں پر کام جاری ہے، تاہم صنعت سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دن پی آئی اے کی نجکاری، فلیٹ میں توسیع، نئے روٹس کے حصول اور مستقبل کے کاروباری ماڈل کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہوں گے۔

