اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ گندم کی قیمت بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے، تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اجلاس میں رانا تنویر حسین نے کہا کہ اگر گندم کی قیمت بڑھائی گئی تو کسان زیادہ کاشت کریں گے، تاہم گندم کی قیمت ساڑھے پانچ ہزار روپے فی من نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ مختلف صوبوں میں گندم کی مبینہ کمی کے حوالے سے چھاپے مارے گئے لیکن کہیں گندم برآمد نہیں ہوئی، جبکہ سی سی سی نے گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جب وفاق گندم درآمد کرتا ہے تو صوبے گندم تو لے لیتے ہیں مگر اس کی ادائیگی نہیں کرتے، اس لیے صوبوں کو بھی خود گندم درآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی گندم تقریباً 4 ہزار 300 روپے فی من پڑے گی۔
رانا تنویر حسین نے مزید کہا کہ اگر چھوٹے کاشتکار کارپوریٹ فارمنگ کی طرف آئیں تو انہیں مفت کھاد اور زرعی مشینری فراہم کی جائے گی۔

