2024-25َ: کینیڈامیں‌پناہ حاصل کرنے کیلئے 6689 پاکستانیوں کی درخواستیں

اوٹاوا (اشرف خان لودھی سے) کینیڈا میں 2024 اور 2025 کے ابتدائی شش ماہ کے دوران پناہ (Asylum / Refugee Claims) کے دعووں کے اعداد و شمار، ان کے ممالکِ اصل، قانونی پسِ منظر، اور رجحانات پیش کیے گئے ہیں۔ اعداد و شمار سرکاری اداروں اور معتبر رپورٹس پر مبنی ہیں۔

2024 میں کینیڈا نے ایک لاکھ اکتہرہزارآٹھ سوچالیس(171840) پناہ کے دعوے وصول کیےجبکہ سال 2025 کے پہلے چھ ماہ (جنوری تا جون) میں ستاون ہزارچارسوچالیس( 57440 )دعوے مختلف پورٹس آف انٹری اور اندرونِ ملک دفاتر پر داخل ہوئے۔

کینیڈا کی وفاقی پناہ گزین تنظیم Immigration and Refugee Board of Canada (IRB) کی رپورٹ کے مطابق، 2024 میں”Refugee Protection Division”(RPD) کو کیسز کی تعداد مجموعی طور پر ریفر کیے گئے ایک لاکھ نوے ہزارانتالیس 190039تھی۔

IRB کے ڈیٹا کے مطابق 2024 میں سب سے زیادہ دعوے درج کرنے والے ممالک اور ان کیسز کی تعداد درج ذیل ہے.National Research Council of Canadaکے مطابق بھارت(India) سےبتیس ہزارپانچ سوتریسٹھ (32563)دعوے موصول ہوئے.بنگلہ دیش(Bangladesh) سےسترہ ہزاردوسوانتالیس (17239)،نائیجیریا (Nigeria) سےسولہ ہزاردوسوسڑستھ(16267).

میکسیکو (Mexico) سےبارہ ہزارآٹھ سواکانوے(12891)،ہیٹی (Haiti) سےسات ہزارآٹھ سوچونسٹھ (7864) ، ایران (Iran) سےسات ہزارچارسوتینتالیس(7443)،گھانا (Ghana) سےسات ہزارچار سو چونتیس(7434)،پاکستان (Pakistan) سےچھ ہزارچھ سوانناوے(6689)،چین (China) چارہزارتین سو انتالیس(4339)،کولمبیا (Colombia) سےچارہزارتین سواٹھتر(4378).

2025 کے پہلے چھ ماہ کے حقائق کے باوجود، ماہ بہ ماہ دعووں (asylum claims) میں کمی دیکھی گئی ہے، بالخصوص جن ممالک سے پہلے دعوے ہو رہے تھے ان سے نئے دعوے کم ہوئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی تو پورے 2025 میں دعوے تقریباًایک لاکھ دس ہزار سے ایک لاکھ بیس ہزار کے قریب رہ سکتے ہیں .جو 2024 کی سطح سے کم مگر تاریخی طور پر انتہائی بلند ہیں۔

تاہم، IRB کے زیرِ التواء کیسز (pending backlog) میں بھی اضافہ ہوچکا ہے . 2025 کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2025 تک تقریباًدولاکھ اکانوے ہزارنوسوپچھتر کیسز زیرِ التواء تھے۔

2024 کے بعد سے پناہ کے دعووں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے. جس نے IRB اور وفاقی امیگریشن نظام پر شدید دباؤ ڈالا ہوا ہے۔24-2023 مالی سال میں RPD نے تقریباًپچپن ہزارتین سو کیسز نمٹائے۔

زیر التواء کیسز کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ کسی مقدمے کا فیصلہ ہونے میں برس بھی لگ سکتے ہیں، جس سے درخواست گزاروں میں مالی اور سماجی دباؤ بڑھ جاتا ہے . رہائش، روزگار اور قانونی مدد کی کمی کا سامنا ہوتا ہے۔

پناہ گزینوں کی آمد سے رہائشی شعبے، سماجی خدمات اور شہروں پر بوجھ بڑھ گیا ہے، خاص طور پر اونٹاریو اور کیوبیک صوبوں میں، جہاں زیادہ تر دعوے دائر کیے جاتے ہیں۔ 2024 کینیڈا کیلئےپناہ گزینوں کی تاریخ کی سب سے بڑی یومیہ لہر ثابت ہوا .ایک لاکھ اکتہرہزارآٹھ سوچالیس دعوے داخل ہوئے۔بھارت، بنگلہ دیش، نائیجیریا، میکسیکو اور ہیٹی جیسے ممالک نے سب سے زیادہ دعوے کیے۔

2025 کے پہلے نصف حصے میں دعوے کم ہوئے مگر زیرِ التواء کیسز کا بوجھ بڑھا . یعنی پناہ گزین بحران ابھی ختم نہیں ہوا۔وفاقی امیگریشن اور IRB نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے. سماجی خدمات، رہائش اور انضمام (integration) کے شعبوں میں مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔

اگرچہ 2025 میں دعووں کی تعداد 2024 کی بلند سطح کے برابر شاید نہ ہو، مگر پناہ کے دعوے، سماجی منازل اور قانونی نظام پر اثرات طویل المدتی ہوں گے. جس کیلئے حکومتی اور سماجی تیاری ناگزیر ہے۔