27ویں آئینی ترمیم پر قومی اسمبلی میں 10 گھنٹے سے زائد بحث، 7 قوانین منظور:فافن

اسلام آباد(نامہ نگار)فافن نے قومی اسمبلی کے 21ویں اجلاس سے متعلق اپنی رپورٹ جاری کر دی، جس میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس 7 اہم قوانین کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ رپورٹ کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم، جس میں عدالتی، انتظامی اور عسکری ڈھانچوں میں تبدیلیاں شامل ہیں، پر ایوان میں مجموعی طور پر 10 گھنٹے 4 منٹ بحث ہوئی اور 57 ارکانِ اسمبلی نے اظہارِ خیال کیا۔

کہا گیا ہے کہ بحث کے دوران حکومتی اتحاد نے 5 گھنٹے 45 منٹ گفتگو کی، جو کل مباحثے کا 57 فیصد بنتا ہے، جب کہ اپوزیشن نے 4 گھنٹے 19 منٹ حصہ لیا، جو مجموعی بحث کے 43 فیصد کے برابر ہے۔فافن کے مطابق ترمیم کی منظوری کے روز 296 ارکان موجود تھے اور آئینی ترمیم کی منظوری کے وقت حاضری 91 فیصد رہی۔

اجلاس کے دوران پرائیویٹائزیشن کمیشن ترمیمی بل 2025، پاکستان آرمی ترمیمی بل 2025، پاکستان ایئر فورس ترمیمی بل 2025 اور پاکستان نیوی ترمیمی بل 2025 بھی منظور کیے گئے۔ اسی کے ساتھ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل 2025 اور گھریلو تشدد بل 2024 کی منظوری بھی دی گئی۔رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ 5 بل ایک ہی روز قواعد معطل کر کے پیش کیے گئے اور فوری طور پر منظور کیے گئے۔