ہم نے جمعرات کو اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعائیں مانگی تھیں اسی شام محسوس ہوا کہ دعائیں مستجاب ہوئیں ہم جس نظام کے شاکی تھے اور جس نے اکثریت کو بے بس کر دیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کھلے عام اعلان کیا کہ موجودہ نظام گر چکا ہے۔ پی ٹی آئی سمیت سب جماعتیں متحد ہوں اسٹیک ہولڈرز مل بیٹھیں۔ آئیے پہلے 47سالہ محسن نقوی کے30جولائی 2026کے انتہائی چونکا دینے والے بیان کے اہم نکات اجاگر کریں۔1۔ ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں وہ تباہ ہو چکا ہے ۔2۔نئے انتظامی یونٹ یا صوبے ہی ناگزیر ہیں۔3۔ جب تک سیاستدان ملک کا نظام ٹھیک نہیں کریں گے فیلڈ مارشل کی محنت کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔4۔ پی ٹی آئی سمیت سب جماعتیں متحد ہوں۔5۔ نوجوان یا کاکروچ اکٹھے ہوں گے تو ہر چیز الٹ دیں گے۔6۔ نوجوان میرٹ کی بنیاد پر روزگار کے مواقع اور درست شفاف نظام چاہتے ہیں۔7۔ یہ نظام چلتا رہا تو 10 سال بعد بھی ہم انہی مسائل پر بات کر رہے ہوں گے۔8۔ ہم اپنا بجٹ نگیٹو میں بناتے ہیں کہ اس سال کتنا قرضہ دینا ہے۔9۔ اس حال تک پاکستان کو پہنچانے کے ذمہ دار جتنے لوگ ہیں، یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔10۔ فیلڈ مارشل نے بارہا کہا ہے کہ ہم جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔11۔ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے عدالتیں فیصلہ کریں گی۔12۔ اس وقت ہر سیاسی جماعت صرف اپنے بارے میں سوچ رہی ہے۔13۔ نوجوانوں کو لیپ ٹاپ یا دو چار ہزار دے کر خاموش نہیں کیا جا سکتا۔14۔ ایک بندہ اتنی محنت کر کے سب کچھ پلیٹ میں لا کر دے رہا ہے۔15۔ وہ ریڈ لائن کراس نہیں کرنا چاہتا۔16۔ حکومت مدت پوری کرے گی۔17۔ امریکہ سے جتنے مرضی تعلقات اچھے ہو جائیں ملکی نظام ٹھیک نہ ہو تو کوئی فائدہ نہیں ۔
مہذب جمہوری ملکوں میں کابینہ کا کوئی اتنا اہم رکن ایسا بیان دے تو پارلیمانی حکومت گر جاتی ہے۔ نیا وزیراعظم ناگزیر ہوتا ہے۔ جیسے حال ہی میں برطانیہ میں ہوا یا پھر ملک میں نیا مینڈیٹ لینے کیلئے منصفانہ آزادانہ انتخابات لازمی ہوتے ہیں۔ یا کم از کم اتنا تو ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا جاتا ہے۔
آج اتوار ہے۔ بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہوؤں دامادوں سے دوپہر کے کھانے پر تبادلہ خیال کا دن۔ اب نئے صوبوں پر بحث چھڑ چکی ہے تو آپ کی اولادیں بھی آپ سے یہی سوال کریں گی۔ ایم کیوایم کے خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال دونوں اس کابینہ کے ارکان بھی ہیں جس میں محسن نقوی وزیر داخلہ ہیں۔ وہ کراچی اور حیدرآباد کے بڑے جلسوں میں نئے صوبوں کا مطالبہ کر چکے ہیں ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ غیر سیاسی، غیر جماعتی لیکن سب سے بااثر سویلین شخصیت کا یہ بیان پاکستان کی تاریخ کے کس موڑ پر آیا ہے۔ عالمی منظر تو یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی سیاسی فوجی اقتصادی طاقت۔ امریکہ اس وقت ایک چھوٹے سے ملک ایران کی مسلسل سیاسی، فوجی مزاحمت سے عاجز آگئی ہے۔ کھلے عام بحث ہو رہی ہے کہ امریکہ اب سب سے بڑی طاقت نہیں رہا۔ پاکستان کی موجودہ حکومت امریکہ کی اس وقت اتحادی بھی ہے اور ثالث بھی۔ امریکہ کا عالمی نظام بھی گر چکا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے بعد کویت اور قطر سے دفاعی معاہدوں کی بات کر رہا ہے۔ چین اور روس ایران کا ساتھ دے رہے ہیں۔ علاقائی طور پر صورتحال میں بہت تیزی ہے۔ ہندوستان میں نوجوان سڑکوں پر ہیں۔ مودی حکومت خوفزدہ ہے۔ نیپال اور بنگلہ دیش میں نوجوان حکومتیں بدلوا چکے ہیں۔ مقامی طور پر بھی صورتحال بہت دھماکہ خیز ہے۔ آزاد کشمیر میں 50دن سے زیادہ سے دھرنے چل رہے ہیں۔ سیکورٹی فورسز اور دیگر صوبوں کی پولیس بھی احتجاج پر قابو نہیں پا سکی۔ جانیں بھی جا رہی ہیں۔ بلوچستان میں سرکاری املاک تباہ ہو رہی ہے جج قتل کیے جا رہے ہیں۔ کے پی کے میں ضم ہونیوالے قبائلی اضلاع میں یکے بعد دیگرے سیکورٹی قافلوں، پولیس اسٹیشنوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ سندھ میں اردو بولنے والوں اور سندھی بولنے والوں میں تصادم ہو رہے ہیں ۔آزاد کشمیر میں الیکشن کے حوالے سے موجودہ نظام کی برقراری میں شامل دونوں حکمران جماعتیں ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگا رہی ہیں۔
مستقبل کے ممکنہ دو وزرائے اعظم محترمہ مریم نواز اور محترم بلال بھٹو زرداری ایک دوسرے کیخلاف بیانات کے تیر چلا رہے ہیں۔ نئی سرمایہ کاری نہیں آرہی ہے۔پٹرول کی قیمت میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف سے قرضے کی قسطیں لینے پر زور ہے۔ ریکوڈک کا سونا اور دیگر معدنی وسائل ہماری راہ تک رہے ہیں۔
واہگہ سے گوادر تک ایک تشویش ناک صورتحال ہے۔ عوام مایوس ہیں۔ وزیراعظم عوام کو اعتماد میں لینے کیلئے قوم سے خطاب نہیں کر رہے ۔ نہ ہی پارلیمنٹ میں کوئی پالیسی بیان دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر یہ رجحان ہے کہ موجودہ حکومت بدلنے والی ہے۔ نیا سسٹم لایا جا رہا ہے۔ یا مقتدرہ کمزور ہو گئی ہے ۔
یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جو نظام گر رہا ہے وہ کیا ہے ۔وزیر دفاع خواجہ آصف اسے ہائی برڈ نظام کہتے ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ اس وقت یہی چل سکتا ہے ۔بظاہر پارلیمانی نظام ہے لیکن اس نظام کی اقدار کا تحفظ نہیں ہو رہا ہے پارلیمنٹ سپریم نہیں ہے۔
آئینی ترامیم کے بعد حکومت پر چیک اینڈ بیلنس کے اداروں سے اختیارات چھین لیے گئے ہیں۔ عدلیہ انتظامیہ کے تحت ہے ۔ اقتصادی طور پر قرضے لیے جا رہے ہیں خود کفالت اور کفایت شعاری کی طرف کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ میرٹ کا سسٹم نہیں ہے۔ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اپنی مراعات اور تنخواہیں بڑھا رہے ہیں۔ جاگیردار، زمیندار، سردار، ٹھیکے دار قانون کو اپنی باندی بنا رہے ہیں۔ یہ نظام 1985ءمیں غیر جماعتی انتخابات کے بعد انتقال اقتدار کے بجائے شراکت اقتدار کے تحت شروع ہوا ۔ جسے سب ہائی برڈ نظام کہتے ہیں۔ اگر بقول محسن نقوی یہ نظام گر چکا ہے تو اچھا ہی ہوا ہے اقبال کہہ چکے ہیں۔
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
اس نظام کا متبادل حقیقی جمہوریت ہے جہاں صرف اور صرف قانون کی حکمرانی ہو ۔کوئی ادارہ دوسرے ادارے کے اختیارات میں مداخلت نہ کرے۔نیا قابل قبول نظام صرف نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹوں سے قائم نہیں ہو سکتا۔ اس کیلئے ملک گیر ریفرنڈم ہونا چاہیے۔ صرف سیاسی پارٹیاں نہیں یونیورسٹیاں، تحقیقی ادارے، دینی مدارس، میڈیا ،تاجر، صنعت کار اچھی حکمرانی کے نظام کے حوالے سے بحث کریں، تحقیق کریں، وفاقی، صوبائی ،بلدیاتی عدالتی اختیارات نئے سرے سے طے کیے جائیں شراکت اقتدار کے بجائے انتقال اقتدار کی طرف بڑھا جائے جو صرف اور صرف منصفانہ الیکشن کے ذریعے ہی ممکن ہے جس کیلئے با اختیار الیکشن کمیشن ناگزیر ہے۔

