سوات: کبل میں امن ریلی پر خودکش حملہ،6 پولیس اہلکار وں سمیت 15 افراد شہید

سوات (اے پی، خیبر پختونخوا پولیس، خبر ایجنسیاں)سوات کے علاقے کبل میں امن اور انسدادِ دہشت گردی ریلی کے دوران خودکش حملے میں کم از کم 14 افراد شہید جبکہ دو درجن سے زائد زخمی ہوگئے۔ شہداء میں 9 شہری اور 5 پولیس اہلکار شامل ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق خودکش حملہ اس وقت کیا گیا جب مظاہرین کبل پولیس اسٹیشن کے قریب دہشت گردی کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور علاقے میں امن کے قیام کا مطالبہ کر رہے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق حملے سے قبل مقررین نے کہا تھا کہ امن و امان کا قیام اور دہشت گردی کا خاتمہ ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ انہوں نے حکام پر شدت پسندوں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق ابتدائی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ خودکش تھا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ دھماکے کی نوعیت کا تعین کر رہا ہے، جبکہ جائے وقوعہ سے ایک انسانی سر بھی ملا ہے، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ خودکش حملہ آور کا ہے۔

ڈی آئی جی مالاکنڈ سید فدا حسین نے بتایا کہ خودکش حملہ آور پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم اہلکاروں کے روکنے پر اس نے مرکزی گیٹ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

تمام زخمیوں اور شہداء کو سینٹرل اسپتال سوات منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور متعلقہ حکام کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہید پولیس اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دوسروں کی زندگیاں بچائیں اور فرض شناسی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔

اے پی کے مطابق حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی گروہ نے قبول نہیں کی، تاہم شبہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر ظاہر کیا جا رہا ہے، جو افغانستان میں موجود طالبان حکومت سے الگ ہونے کے باوجود اس کی اتحادی سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان متعدد بار افغان طالبان پر ٹی ٹی پی کو پناہ دینے کا الزام عائد کر چکا ہے، جس کی کابل تردید کرتا ہے۔