پاکستان کے انتظامی امور اور نظام کو چلانے کے لئے پاکستان کے بہترین دماغ ،وفاقی سطح پر مقابلے کے ایک امتحان کے بعد منتخب کئے جاتے ہیں ،پھر میرٹ کی بنیاد پر ان کے گروپ اور سروسز تشکیل پاتی ہیں ،جن میں سے ایک سروس بہترین میں بھی بہترین کہلاتی ہے ،اسے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کہا جاتا ہے ،عملی طور پر پاکستان کی یہ ایلیٹ سروس ملک کے انتظام و انصرام کی ذمہ دار کہلاتی ہے یا بن جاتی ہے ،اسی طرح پولیس سروس،فارن سروس اور دوسرے گروپ ہوتے ہیں جو اپنے اپنے دائرہ کار میں خدمات انجام دیتے ہیں۔
پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس جسے ماضی میں ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ بھی کہا جاتا تھا ،صوبوں میں بالخصوص اسی سروس کے چیف سیکرٹری اور وفاق میں بالعموم کلیدی عہدوں پر زیادہ تر اسی سروس کے وفاقی سیکرٹری لگتے ہیں،ایک وقت میں ملک کی اس بہترین سروس کے افسروں کی مثالیں دی جاتی تھیں کہ یہ میرٹ پر کام کرتے ہیں ،اپ رائٹ ہوتے ہیں اور ان کا کوئی ثانی نہیں ہوتا ، میرے خیال میں اب یہ مثالیں کم ہو گئی ہیں،مگر موجود ہیں ، میرٹ پر ڈٹ جانے والے افسر اب بھی موجود ہیں چاہے خال خال ہی ہیں،دوسری طرف سوچنے والی بات ہے کہ اس بہترین سروس کے اکثر موجودہ افسر اپنی سروس کے شاندار اور تابناک ماضی کو سامنے رکھنے کی بجائے وقتی فائدوں کے لئے دیانت سے کیوں دور ہوتے جا رہے ہیں؟
پاکستان کی یہ سروس اور بیوروکریسی ہمیشہ سے ایک ایسے نظام کے طور پر دیکھی جاتی رہی ہے جہاں اصول، ضابطے اور میرٹ کی بات کی جاتی ہے، مگر اب عملی طور پر اکثر فیصلے دباؤ، تعلقات اور طاقت کے مراکز کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں، ایسے ماحول میں اگر کسی افسر یا ادارے کی جانب سے ایک ایسا فیصلہ سامنے آئے جو نہ صرف قواعد کے مطابق ہو بلکہ سیاسی دباؤ کو بھی مسترد کرتا ہو تو وہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں رہتا بلکہ ایک علامتی اور امتیازی حیثیت اختیار کر لیتا ہے،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں گریڈ 18 سے گریڈ 19 میں ترقیوں کے حوالے سے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس میں ہونے والا حالیہ فیصلہ بھی کچھ اسی نوعیت کا ہے، بظاہر یہ ایک معمول کی محکمانہ کارروائی تھی، مگر اس کے پس پردہ جو عوامل کارفرما رہے، وہ اسے غیر معمولی بنا گئے ہیں۔اجلاس سے نوٹیفکیشن تک ایک غیر معمولی تاخیر بہت کچھ بتاتی ہے،محکمانہ سلیکشن بورڈ کا اجلاس 13 فروری کو منعقد ہوا، جس میں گریڈ 18 کے افسران کی گریڈ 19 میں ترقی کے کیسز کا جائزہ لیا گیا، عام طور پر ایسے اجلاس کے بعد چند دنوں میں نوٹیفکیشن جاری ہو جاتا ہے، مگر اس بار معاملہ مختلف رہا، ایک ماہ سے زائد کی تاخیر کے بعد 19 مارچ کو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،یہ تاخیر محض کوئی انتظامی سستی نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے ایک واضح دباؤ کارفرما تھا، ذرائع کے مطابق کوشش کی جا رہی تھی کہ کچھ مخصوص افسروں کے کیسز کو بھی ترقی کی فہرست میں شامل کیا جائے، یعنی ترقی کی فہرست کو ایڈجسٹ کرانے کی کوشش جاری تھی،یہ وہ مقام ہے جہاں سے اس پورے معاملے کی اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔
پاکستان میں بیوروکریسی اور سیاست کا تعلق ہمیشہ پیچیدہ رہا ہے، بظاہر بیوروکریسی ایک غیر جانبدار انتظامی ڈھانچہ ہے، مگر حقیقت میں یہ اکثر سیاسی ترجیحات کے زیر اثر رہتی ہے، ترقیوں، تبادلوں اور تعیناتیوں میں سیاسی اثر و رسوخ اب ایک کھلا راز ہے،ایسے میں جب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن جیسے کلیدی ادارے پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ کچھ مخصوص افسران کو ترقی دے، تو یہ کوئی حیران کن بات نہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ اس دباؤ کو تسلیم نہ کیا جائے اور اس بار یہی ہوا ، سخت دباو ڈالا گیا مگر ہار گیا اور اصول اور اصولوں پر ڈٹا رہنے والا جیت گیا ،اجلاس کے دوران افسروں کی کارکردگی اور دیانت داری کا سوال اٹھا اور یہی سب سے اہم پہلو ہے جہاں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 15 افسران کو ترقی دینے سے انکار کر دیا گیا، ان افسران کی کارکردگی، رویے اور دیانت داری کو تاحال غیر تسلی بخش قرار دیا گیا اور ان کے کیسز کو مزید جائزے کے لیے بورڈ کے اگلے اجلاس تک موخر کر دیا گیا۔
یہ فیصلہ کئی حوالوں سے اہم ہے، پہلی بار “کارکردگی” اور “دیانت داری” کو سنجیدگی سے لیا گیامحض سینیارٹی کو ترقی کا معیار نہیں بنایا گیایہ پیغام دیا گیا کہ ہر افسر خودکار طور پر اگلے گریڈ کا حقدار نہیںیہ ایک ایسا قدم ہے جو اگر تسلسل کے ساتھ جاری رہے تو بیوروکریسی کے کلچر میں بنیادی تبدیلی لا سکتا ہے،جن افسروں کو ترقی دینے کی بجائے ان کے کیسز کا اگلے اجلاس تک مزید جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ان میں لاہور جیسے بڑے ضلع کی سابق ڈپٹی کمشنر رافعہ حیدر کے علاوہ اہم پوسٹوں پر رہنے والے کئی افسر بابر بشیر،رابعہ اورنگ زیب،مس عا ئیشہ،رانی حفضہ کنول،رحیم بخش میتلو،محمد عثمان طاہر،آفاق بشیر،آمنہ رفیق،حسن عابد،امیر فضل اویسی،طٰہ سلیم،نصراللہ،شرجیل نور،جواد حیدر شاہ شامل ہیں۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق جن سات افسروں کو ترقی دینے کی بجائے بری کارکردگی پر سپر سیڈ کر دیا گیا ، ان میں پنجاب کے چار اضلاع راولپنڈی ، سرگودھا، خوشاب اور لودھراں میں ڈپٹی کمشنر رہنے والے کیپٹن(ر) شعیب علی اور متعدد انتظامی اور ریونیو پوسٹوں پر تعینات رہنے والے افسر میجر محمد الیاس ، محمد عثمان تنویر ،صاحبزادہ نجیب اللہ ،مس نورش عمران،رابعہ ریاست اور عرفان اسلام شامل ہیں ، ان افسروں پر ان کے جونئیرز کو فوقیت دی گئی ،یہ فیصلہ بھی بیوروکریسی کے روایتی ڈھانچے کیخلاف جاتا ہے جہاں سینیارٹی کو تقریباً مقدس حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔
بورڈ نے 64 افسران کو ریگولر بنیادوں پر جبکہ 24 کو ایکٹنگ چارج کی بنیاد پر گریڈ 19 میں ترقی دے دی ،اس فیصلے کو بڑے پیمانے پر سراہا اور اصولوں کی فتح قرار دیا جا رہا ہے، بلاشبہ یہ ایک مثبت قدم ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایک مستقل رجحان بنے گا یا محض ایک وقتی مزاحمت ثابت ہوگا؟پاکستان کی بیوروکریسی میں اس سے پہلے بھی ایسے کئی مواقع آئے ہیں جب اصولی فیصلے کیے گئے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نظام دوبارہ پرانی ڈگر پر آ گیا، اس فیصلے سے بیوروکریسی اور سیاسی حلقوں کو ایک واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ہر افسر ترقی کا حق دار نہیںکارکردگی اور دیانت داری اہم ہیں،یہ فیصلہ اگر ایک وقتی واقعہ ثابت ہوا، تو یہ بھی ان گنت مثالوں کی طرح تاریخ کے صفحات میں دب کر رہ جائے گا، مگر قرائن بتاتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا یہ فیصلہ امید کی ایک کرن ضرور ہے، اسے ایک مکمل تبدیلی قرار دینا قبل از وقت ہوگا، اصل امتحان اس بات کا ہے کہ آیا مستقبل میں بھی اسی طرح کے فیصلے کیے جاتے ہیں یا نہیں،اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان کی بیوروکریسی میں ایک نئی روح پھونکی جا سکتی ہے،ایک ایسی روح جو میرٹ، دیانت داری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو حقیقی معنوں میں اہمیت دے اور پاکستان کی خدمت کے دعوے دار افسر قائد اعظم کے ارشادات کی روشنی میں اس ملک کو چلانے میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں،ابھی تو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور اس کے سیکرٹری کی تحسین بنتی ہے،ویل ڈن نبیل اعوان ۔

