امریکی وسط مدتی انتخابات، ٹرمپ کی مقبولیت اور دو سالہ حکومتی کارکردگی داؤ پر لگ گئی

واشنگٹن (خبر ایجنسیاں) امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دو سالہ حکومتی کارکردگی کا فیصلہ کرنے والے وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ شروع ہوگئی۔ ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر انتخابی عمل جاری ہے۔

سب سے پہلے ریاست ورمونٹ میں مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بجے پولنگ کا آغاز ہوا۔ نیو ہیمپشائر، نیو جرسی، نیویارک اور ورجینیا میں پولنگ اسٹیشن صبح 6 بجے کھلے، جبکہ الاسکا اور واشنگٹن میں آخری پولنگ اسٹیشن صبح 11 بجے کھلیں گے۔ ہوائی میں دوپہر 12 بجے ووٹنگ شروع ہوگی۔

انتخابی جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں، تاہم سینیٹ کا کنٹرول غیر یقینی ہے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح اپنی کم ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مہنگائی ان کی مقبولیت میں کمی کی اہم وجوہات قرار دی جا رہی ہیں۔

ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کیلئے مزید تین جبکہ سینیٹ میں اکثریت کیلئے چار نشستیں درکار ہیں۔اگر ڈیموکریٹس کامیاب ہوگئے تو انہیں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کرنے اور صدر کی اہم نامزدگیوں کی منظوری روکنے کا اختیار حاصل ہوسکتا ہے۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے وسط مدتی انتخابات کی تاریخ بھی عموماً صدر کی جماعت کے حق میں نہیں رہی۔ اس عرصے میں صرف دو انتخابات کے علاوہ باقی تمام مواقع پر برسراقتدار جماعت نے کانگریس میں اپنی نشستیں کھوئی ہیں۔