اوشاوا(نامہ نگار) ڈرہم ریجنل پولیس کے مطابق اوشاوا میں ایک 80 سالہ شخص کے قتل کے الزام میں اس کے 42 سالہ بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ مقامی مسجد کے قریب پیش آیا۔
پولیس کو جمعرات، 16 اکتوبر کو شام 4 بج کر 20 منٹ پر سیمکو اسٹریٹ ساؤتھ اور مکگریگر اسٹریٹ کے علاقے میں ایک رہائشی مکان کے باہر “نامعلوم مسئلے” کی اطلاع ملی۔ جب اہلکار موقع پر پہنچے تو انہوں نے ایک شخص کو شدید چوٹوں کے ساتھ پایا۔ جان بچانے کی کوششوں کے باوجود، وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
پولیس نے مقتول کی شناخت ابراہیم بالا کے نام سے کی، جو اوشاوا کے رہائشی اور مسلم کمیونٹی کے معروف رکن تھے۔ ان کی عمر 80 برس بتائی گئی ہے۔ یہ رواں سال اوشاوا ریجن میں ہونے والا ساتواں قتل ہے۔
پولیس کے مطابق ابراہیم بالا دوپہر تقریباً 2:30 بجے اسلامک سینٹر آف اوشاوا سے روانہ ہوئے تھے اور ان پر حملہ اسی مسجد کے قریب ہوا۔ مسجد انتظامیہ نے انہیں “بہت عزیز کمیونٹی بھائی” قرار دیتے ہوئے ان کی اچانک موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
نیشنل کونسل آف کینیڈین مسلمز (NCCM) نے بھی ایک بیان میں ابراہیم بالا کو مسلم کمیونٹی کا ممتاز رکن قرار دیتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
پیر، 20 اکتوبر 2025 کو تقریباً 1:30 بجے ڈرہم پولیس نے تھارنٹن روڈ نارتھ اور ایڈیلیڈ ایونیو ویسٹ کے علاقے میں ایک رہائشی مکان پر چھاپہ مار کر سہیب بالا نامی 42 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق صہیب بالا مقتول کا بیٹا ہے، جس پر دوسرے درجے کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اسے ضمانت کی سماعت تک حراست میں رکھا گیا ہے۔
اسلامک سینٹر آف اوشاوا نے پیر کے روز ایک فالو اپ بیان میں اس گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشکل وقت میں متاثرہ خاندان کی مکمل مدد جاری رکھیں گے۔
بیان میں کہا گیا“ہم کمیونٹی کی ہمدردی اور تعاون کیلئےدل سے شکر گزار ہیں۔ ذہنی صحت مذہب، نسل، عمر یا جنس کی بنیاد پر امتیاز نہیں کرتی۔ ہمیں اپنی فیملیز کو ذہنی صحت کے وسائل تک رسائی دینے کی ترغیب دینی چاہیے تاکہ ایسے سانحات دوبارہ پیش نہ آئیں۔”
پولیس نے اب تک موت کی اصل وجہ ظاہر نہیں کی اور صرف یہ بتایا ہے کہ بالا کو ’’شدید چوٹیں‘‘ لگی تھیں۔ تحقیقات جاری ہیں۔

