اونٹاریو (نامہ نگار) اونٹاریو کی فورڈ حکومت نے پیر کے روز ایک نیا جامع (Omnibus) قانون اسمبلی میں پیش کیا ہے، جس میں صوبے بھر میں خودکار اسپیڈ کیمروں پر پابندی شامل ہے۔
یہ قانون سازی، جو ریڈ ٹیپ ریڈکشن (Red Tape Reduction) کی وزیر انڈریا خانجن (Andrea Khanjin) نے متعارف کرائی، بنیادی طور پر اجازت ناموں اور لائسنسنگ کے عمل کو تیز اور آسان بنانے سے متعلق ہے۔ تاہم، اس میں اسپیڈ کیمروں کو ختم کرنے اور ان کی جگہ رفتار کم کرنے والے بریکرز (Speed Bumps) اور راؤنڈ اباؤٹس لگانے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔
وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے ستمبر سے اسپیڈ کیمروں کے خلاف مہم تیز کر رکھی ہے، انہیں “ٹیکس گریب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ڈرائیوروں کو رفتار کم کرنے سے نہیں روکتے۔ ان کے مطابق، شہروں کو چاہیے کہ وہ اسپیڈ بریکروں اور فلیشنگ وارننگ سائنز پر سرمایہ لگائیں تاکہ حقیقی سیکیورٹی یقینی بنائی جا سکے۔
فورڈ حکومت کے مطابق، بل کی منظوری اور شاہی توثیق (Royal Assent) کے بعد، اسپیڈ کیمروں سے متعلق تمام جرمانے اور قانونی کارروائیاں غیر مؤثر قرار دے دی جائیں گی۔
یہ نیا قانون دراصل 2017 کے اس قانون کو منسوخ کرے گا جو اُس وقت کے لبرل وزیرِٹرانسپورٹ اسٹیون ڈیل ڈوکا (Steven Del Duca) نے متعارف کرایا تھا۔ فورڈ حکومت نے دسمبر 2019 میں اسی قانون کے تحت ضوابط لاگو کیے تھے جن کے ذریعے شہروں کو کیمروں کے استعمال اور جرمانے عائد کرنے کی اجازت ملی تھی۔
“میئرز اور اداروں کا ردعمل”
کچھ میئرز، جن میں وان کے میئر اسٹیون ڈیل ڈوکا بھی شامل ہیں، نے پابندی کی حمایت کی ہے، تاہم دیگر شہروں کے میئرز، پولیس چیف اور اونٹاریو ایسوسی ایشن آف میونسپلٹیز نے اس کی مخالفت کی ہے۔
اونٹاریو پولیس چیف ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا کہ”یہ کیمرے ڈرائیوروں کی رفتار کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوئے ہیں اور پولیس افسران کو سنگین جرائم پر توجہ دینے کا وقت فراہم کرتے ہیں۔”
ایک مشترکہ SickKids اسپتال اور ٹورنٹو میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے مطالعے کے مطابق، آٹومیٹڈ اسپیڈ کیمروں نے ٹورنٹو میں 45 فیصد تک رفتار کی خلاف ورزیوں میں کمی کی۔
حکومتی اعدادوشمار کے مطابق، اونٹاریو کی 40 میونسپلٹیز نے مجموعی طور پر 700 سے زائد اسپیڈ کیمرے نصب کیے تھے، جن میں بڑے شہر جیسے ٹورنٹو، اوٹاوا، برمپٹن اور مسی ساگا شامل ہیں۔
“دیگر اصلاحات”
اس جامع قانون سازی میں صرف ٹریفک سے متعلق نہیں بلکہ دیگر کئی اہم اصلاحات بھی شامل ہیں، جن میں.
صحت کے شعبے میں ورک فورس موبلٹی — ڈاکٹرز اور نرسوں کے لائسنسوں کی خودکار منظوری، تاکہ وہ صوبوں کے درمیان آسانی سے خدمات انجام دے سکیں۔
کلین واٹر ایکٹ (Clean Water Act) میں نرمی — جو 2000 میں واکیرٹن (Walkerton) کے آلودہ پانی کے سانحے کے بعد متعارف کرایا گیا تھا۔
ڈیجیٹل پرمٹ سسٹم کی تخلیق — جس کے تحت 2028 تک معیشت سے متعلق اجازت ناموں میں 35 فیصد کمی کا ہدف رکھا گیا ہے۔
فورڈ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات معاشی مقابلہ بازی میں اضافہ، کاروباری اعتماد کی بحالی اور انتظامی عمل میں شفافیت کو فروغ دیں گے۔ تاہم، ٹریفک سیفٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپیڈ کیمروں کا خاتمہ سڑکوں پر خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

