ایران میں امریکی اسرائیلی جارحیت اور مسلم دنیا کی تقسیم

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں صرف میزائل اور جنگی طیارے ہی نہیں بلکہ عالمی سیاست، علاقائی مفادات اور مسلم دنیا کی اندرونی تقسیم بھی ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہیں۔

28 فروری 2026 کو خطے میں کشیدگی اس وقت اچانک شدت اختیار کر گئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ فضائی حملے شروع کیے، حالانکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات جاری تھے۔ ان کارروائیوں میں ایرانی فوجی تنصیبات اور اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے دوران ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اپنی چودہ ماہ کی نواسی سمیت قریبی رشتہ داروں اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ شہید ہو گئے۔

جنگ کے آغاز ہی میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایران کے شہر مناب کے ایک گرلز پرائمری اسکول پر امریکی میزائل حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں سات سے بارہ سال کی عمر کی تقریباً 165 معصوم طالبات ہلاک ہو گئیں۔ دنیا بھر کے آزاد حلقوں اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے اسے بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔

رمضان کے مقدس مہینے میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحانہ حملوں کے نتیجے میں اب تک معصوم بچوں اور خواتین سمیت تقریباً 1500 افراد شہید جبکہ 20000 زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ہسپتالوں، اسکولوں، پانی کی سہولیات اور مواصلاتی نظام سمیت ہزاروں مقامات کو تباہ کیا جا چکا ہے اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریاں اور جانی نقصان اس کے علاوہ ہیں۔

ان ابتدائی حملوں کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائیاں شروع کیں اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ خطے میں موجود امریکی مفادات، بالخصوص فوجی اڈوں، کو نشانہ بنایا۔ ایرانی مؤقف یہ ہے کہ اگر اس کے خلاف حملے ایسے اڈوں سے کیے جائیں جو دیگر ممالک کی سرزمین پر قائم ہوں تو انہیں دفاعِ خود کے دائرے میں جواب دینا جائز ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق بھی اقوامِ متحدہ کے منشور کا آرٹیکل ۵۱ کسی ریاست کو مسلح حملے کی صورت میں دفاع کا حق دیتا ہے۔

اسی دوران اقوامِ متحدہ کو ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی بلاجواز حملوں کو رکوانے کے لیے کوئی مؤثر اقدام کرنے کی توفیق تو نہ ہوئی، البتہ ایک قرارداد ضرور منظور کی گئی جس میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملوں کی مذمت کی گئی۔ ان اسلامی ممالک نے بھی ایران پر تنقید کی۔ اس ردعمل نے ایک اہم حقیقت کو اجاگر کیا—مسلم دنیا کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم، جہاں ریاستیں اپنے اپنے اور عالمی مفادات کے تحت مختلف صف بندیوں میں بٹتی جا رہی ہیں۔

یہ سوال اب پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے کہ مسلم دنیا اس مقام تک کیسے پہنچی جہاں اس کے کئی ممالک اپنی سرزمین غیر ملکی افواج کے لیے اس طرح فراہم کر رہے ہیں کہ وہ ایک دوسرے مسلم ملک کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

گزشتہ برسوں میں خطے کے کئی ممالک نے امریکہ کے ساتھ دفاعی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کیا ہے۔ بعض ریاستیں اسے اپنی سلامتی کی ضمانت سمجھتی ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک یہ تعلقات سفارتی اثر و رسوخ اور معاشی فوائد کا ذریعہ ہیں۔ مشترکہ فوجی مشقیں، انٹیلیجنس کا تبادلہ اور جدید دفاعی نظاموں تک رسائی بھی ان تعلقات کا حصہ ہیں۔

اسی تناظر میں کئی مسلم ممالک نے ابراہیمی معاہدوں کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے اور امریکہ کے ساتھ فوجی و سکیورٹی تعاون کو مزید مستحکم کیا۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 2020 میں اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے، جبکہ مراکش نے بھی اسی سال اپنے تعلقات بحال کیے۔ مصر اور اردن اس سے کئی دہائیاں پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کر چکے تھے۔

تاہم یہی انتظامات ایک نازک تضاد کو جنم دیتے ہیں۔ جب کسی ریاست کی سرزمین کسی تیسرے ملک کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتی ہے تو وہ خود بھی تنازع کا حصہ بن سکتی ہے۔ موجودہ بحران نے اس خطرے کو نمایاں کر دیا ہے۔

آج مشرقِ وسطیٰ واضح طور پر مختلف اسٹریٹجک بلاکس میں تقسیم دکھائی دیتا ہے۔ کچھ حکومتیں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون کو ناگزیر سمجھتی ہیں، جبکہ دیگر اسے علاقائی خودمختاری اور مسلم یکجہتی کے اصولوں سے انحراف تصور کرتی ہیں۔

اس کشیدگی کا مرکزی نقطہ بدستور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جاری تنازع بھی ہے، جہاں فلسطینی علاقوں، خصوصاً غزہ، میں ہونے والی تباہی نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد سمیت ہزاروں شہریوں کو ہلاک کیا گیا اور بنیادی ڈھانچہ بری طرح تباہ ہوا۔ یہ صورتحال اس تاثر کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ اسرائیل کو مسلمانوں کے خلاف امریکہ اور بعض مغربی طاقتوں کی مضبوط سیاسی اور عسکری حمایت حاصل ہے۔

امریکہ اور اسرائیل ایران پر مسلط کی گئی موجودہ بلاجواز جنگ کو ایران کے جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ تیاری سے جوڑتے ہیں۔ ایران بارہا ایسے ہتھیار رکھنے کی نہ صرف تردید کر چکا ہے بلکہ اس موضوع پر مذاکرات کا بھی ہمیشہ خیر مقدم کرتا رہا ہے اور ان میں شریک ہوتا رہا ہے۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی مذاکرات جاری تھے جب امریکہ اور اسرائیل نے اچانک ایران پر حملہ کر دیا۔

اسی پس منظر میں ایک اور اہم سوال ابھرتا ہے: اسرائیل خود جوہری صلاحیت رکھنے کے باوجود ایران کو اسی راستے سے روکنے کی کوشش کیوں کرتا ہے؟ یہ صورتحال عالمی سیاست میں دوہرے معیار کو ظاہر کرتی ہے اور یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ آخر کس اخلاقی یا قانونی اختیار یا جواز کے تحت کوئی ریاست پورے خطے میں “پولیسنگ” کا کردار ادا کر سکتی ہے، جو اس تنازع کی پیچیدگی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

مزید برآں، ایک قابلِ غور اور انتہائی تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ بعض امریکی اور اسرائیلی ذمہ دار حلقے اس تنازع کو اب مذہبی جنگ کے طور پر بھی پیش کرنے لگے ہیں۔ اس طرح کی بیان بازی ایک جغرافیائی و سیاسی کشمکش کو ایک کہیں زیادہ خطرناک اور تقسیم پیدا کرنے والی لڑائی میں تبدیل کرنے کا خطرہ رکھتی ہے۔

لیکن اس تمام جغرافیائی و سیاسی کشمکش کا سب سے بھاری بوجھ عام شہری اٹھا رہے ہیں۔ جنگوں اور تصادم نے نہ صرف معیشتوں کو کمزور کیا بلکہ لاکھوں افراد کو بے گھر اور ہزاروں خاندانوں کو اجاڑ دیا ہے۔ خطے کے مختلف ممالک میں انسانی بحران کی شدت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا استحکام صرف فوجی اتحادوں یا غیر ملکی اڈوں کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے سنجیدہ سفارت کاری، بین الاقوامی قانون کا احترام اور بنیادی تنازعات—خصوصاً مسئلۂ فلسطین کے منصفانہ حل—کے ساتھ ساتھ خطے میں اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور بالادستی کو روکنے کی حقیقی کوششیں ناگزیر ہیں۔

جب تک یہ بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے اور خطے کی ریاستیں قلیل مدتی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی استحکام اور اسلامی دنیا کے اتحاد کو ترجیح نہیں دیتیں، تب تک الزامات، جوابی حملوں اور عالمی مذمتوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا—اور مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے دائرے میں پھنسا رہے گا جہاں ہر نئی جنگ پچھلی سے زیادہ پیچیدہ اور تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

مسلمانوں کو اپنے خلاف مذہب کے نام پر تشکیل دیے جانے والے سازشی جنگی بیانیوں سے بھی فوری طور پر خبردار ہونا ہوگا اور ایسے اقدامات کرنے ہوں گے کہ وہ کسی جال میں نہ پھنس سکیں۔ اس کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر باہمی اعتماد اور اتحاد کو فروغ دیں۔