ایران کے جوہری پروگرام پر”پھیلاؤ کے خدشات” ہیں:انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی

ویانا ( اے ایف پی، سی این این، آئی اے ای اے رپورٹ)انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے اپنی ایک خفیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ایران کے جوہری مواد تک مکمل رسائی نہ ہونے کی وجہ سے جوہری پھیلاؤ (پرو لائفریشن) کے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آئی اے ای اے کو ایران کی اہم جوہری تنصیبات تک جنگ کے آغاز کے بعد سے مکمل رسائی حاصل نہیں ہو سکی، جس کی وجہ سے معائنے اور تصدیق کا عمل متاثر ہوا ہے۔

ایک سفارتی ذریعے کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصفہان اور نطنز جیسے اہم جوہری مراکز میں جنگ کے آغاز کے بعد کوئی واضح سرگرمی نظر نہیں آئی۔ تاہم ادارے کے پاس ان معلومات کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جون 2025 میں اسرائیل اور امریکہ کے درمیان 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی بعض جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اس کے بعد سے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی مکمل نگرانی ممکن نہیں رہی۔

آئی اے ای اے کے مطابق ایران کے پاس پہلے تقریباً 440 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود تھا، جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار سطح کے قریب سمجھا جاتا ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں اس مواد کا درست سراغ نہیں لگایا جا سکا۔

ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مکمل تعاون کرے اور معائنہ کاروں کو دوبارہ رسائی دے تاکہ جوہری نگرانی کا نظام بحال کیا جا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معائنہ کی عدم دستیابی ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ ہے اور اس سے عالمی سطح پر جوہری پھیلاؤ کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل اسے ممکنہ فوجی پروگرام قرار دیتے ہیں۔