لندن (رائٹرز، اے ایف پی، ایسوسی ایٹڈ پریس)برطانوی کامیڈین اور اداکار رسل برانڈ کو لندن کی ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ نے ایک خاتون سے زیادتی اور 3 دیگر خواتین پر جنسی حملوں کے الزامات میں مجرم قرار دے دیا۔ عدالت نے انہیں دو دیگر زیادتی کے الزامات اور جنسی حملے کی کوشش کے ایک الزام سے بری کردیا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق 51 سالہ رسل برانڈ کے خلاف مقدمے کی سماعت تقریباً 4 ہفتے جاری رہی۔ جیوری میں 8 مرد اور 4 خواتین شامل تھے، جنہوں نے 8 گھنٹے سے زائد غور و خوض کے بعد متفقہ طور پر انہیں 4 الزامات میں قصوروار قرار دیا۔
عدالت کے مطابق یہ واقعات 2004ء سے 2009ء کے دوران پیش آئے اور ان میں 4 خواتین متاثر ہوئیں۔ جج نے فیصلہ سنائے جانے کے بعد کہا کہ رسل برانڈ کو پیر 9 نومبر کو سزا سنائی جائے گی اور انہیں طویل مدت کے لیے قید کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ انہیں سزا کے فیصلے تک حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔
سابق امریکی گلوکارہ کیٹی پیری کے شوہر رہنے والے رسل برانڈ نے مقدمے کے دوران تمام الزامات کی تردید کی تھی۔ عدالت میں بیان دیتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ جوانی میں انہیں جنسی تعلقات کا جنون تھا اور وہ بے راہ روی کی زندگی گزارتے رہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی کسی کو اس کی مرضی کے خلاف کسی عمل پر مجبور نہیں کیا۔
رسل برانڈ نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے نے ان کی زندگی اور خاندان کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ان کی زندگی ان الزامات اور قانونی کارروائی کے گرد گھوم کر رہ گئی ہے۔
ان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مبینہ متاثرہ خواتین نے واقعات کے کئی سال بعد پولیس سے رابطہ کیا، جس کی وجہ 2023ء میں نشر ہونے والی ایک دستاویزی فلم اور میڈیا رپورٹس تھیں۔ تاہم استغاثہ کا کہنا تھا کہ خواتین نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات بیان کیں اور جیوری نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سنایا۔
رسل برانڈ نے 2000ء کی دہائی کے اوائل میں اپنے اسٹینڈ اپ کامیڈی شوز، ٹیلی ویژن پروگراموں اور بی بی سی ریڈیو شو کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ انہوں نے ہالی ووڈ کی فلموں ’’فورگیٹنگ سارہ مارشل‘‘ اور ’’گیٹ ہِم ٹو دی گریک‘‘ میں بھی کام کیا۔
بعد ازاں وہ شراب اور منشیات کے استعمال کے مسائل کے باعث بھی خبروں میں رہے۔ حالیہ برسوں میں انہوں نے مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ سے دوری اختیار کرکے امریکا میں سوشل میڈیا پر سرگرمیاں بڑھا دیں، جہاں وہ صحت، سازشی نظریات اور مذہبی موضوعات پر ویڈیوز شیئر کرتے رہے ہیں۔

