بولٹن(بی بی سی) برطانیہ میں 14 سالہ دو لڑکیوں کو شراب پلا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے 29 سالہ افغان شہری سلطانی بکاتش کو 14 سال قید کی سزا سنادی گئی۔بولٹن کراؤن کورٹ میں مقدمے کی 4 ہفتے تک سماعت کے بعد سلطانی بکاتش کو 2 مرتبہ زیادتی، جنسی زیادتی اور جسمانی دخول کے ذریعے جنسی زیادتی کے ایک ایک مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ سلطانی بکاتش نے سماجی رابطے کی ایک ویب سائٹ کے ذریعے ایک لڑکی سے ملاقات کی اور 6 دسمبر کو اسے اپنی سہیلی کے ہمراہ گریٹر مانچسٹر کے علاقے بولٹن میں واقع اپنے فلیٹ میں بلایا۔عدالت کے مطابق دونوں 14 سالہ لڑکیوں نے فلیٹ میں شراب اور مشروب پیا جس کے باعث وہ اس قدر نشے میں ہوگئیں کہ بار بار بے ہوش ہوتی رہیں، اس دوران سلطانی بکاتش نے دونوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
ایک لڑکی فلیٹ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی اور پڑوسی کے دروازے پر دستک دے کر مدد طلب کی۔ اس نے پڑوسی کو بتایا کہ ملزم اس کی سہیلی کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے اور اسے اندر بند کردیا گیا ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ بکاتش خود بہت کم شراب پی رہا تھا جبکہ لڑکیوں کو مزید شراب پینے کی ترغیب دیتا رہا۔ استغاثہ کی وکیل شارلٹ ریمر نے کہا کہ ملزم نے لڑکیوں کے نشے میں دھت ہونے کا موقع استعمال کرتے ہوئے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
سزا سناتے ہوئے جج کینڈیرک ہورن نے کہا کہ ملزم نے لڑکیوں کو اس مقصد سے زیادہ شراب پینے کی ترغیب دی کہ وہ اتنی نشے میں ہوجائیں کہ مزاحمت نہ کرسکیں۔عدالت کے مطابق بکاتش نے ابتدا میں دعویٰ کیا کہ لڑکیوں نے خود جنسی تعلق قائم کرنے کی رضامندی ظاہر کی تھی، بعدازاں اس نے کہا کہ اسے واقعات یاد نہیں اور پھر کسی بھی جنسی سرگرمی سے انکار کردیا۔
جج نے کہا کہ ملزم نے عدالت میں جنسی سرگرمی سے انکار کرکے جھوٹ بولا جسے جیوری نے مسترد کردیا۔عدالت کو بتایا گیا کہ ایک لڑکی کو شدید نفسیاتی نقصان پہنچا جبکہ دوسری پر جنسی زیادتی کے اثرات زندگی بھر برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ محکمہ نگرانی کی رپورٹ میں بکاتش کو خواتین اور لڑکیوں کیلئےبدستور انتہائی خطرناک قرار دیا گیا۔
سلطانی بکاتش واقعے کے بعد فلیٹ سے فرار ہوگیا تھا اور 2 روز بعد اپنے بھائی کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔عدالت کے مطابق بکاتش گزشتہ 2 برس سے برطانیہ میں مقیم تھا اور اسے مستقل قیام کی اجازت حاصل تھی جبکہ اس کی والدہ، 2 بھائی اور 2 بہنیں بھی برطانیہ میں مقیم ہیں۔
دفاع کے وکیل عمر شہزاد نے عدالت کو بتایا کہ بکاتش افغانستان میں برطانوی فوج کے ساتھ کام کرتے ہوئے گولی لگنے سے زخمی ہوا تھا اور 2021ء میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خوف کے باعث افغانستان چھوڑ دیا تھا۔
جج کینڈیرک ہورن نے کہا کہ بکاتش اپنی سزا کا دو تہائی حصہ مکمل کرنے کے بعد ملک بدر کیا جاسکتا ہے، تاہم برطانوی فوج کے ساتھ اس کے سابقہ کام اور طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان سے فرار ہونے کے باعث اس کی ملک بدری ممکن نہ ہونے کا امکان بھی ہے۔

