واشنگٹن(این بی سی نیوز، خبر ایجنسیاں) برمودا سے بوسٹن جانے والا طبی منتقلی کا گلف اسٹریم جی 100 طیارہ لاپتہ ہوگیا، جس میں مریض سمیت 6 افراد سوار تھے، امریکی کوسٹ گارڈ نے طیارے کی تلاش کیلئےفضائی اور سمندری کارروائی شروع کردی۔
کینیڈین طبی فضائی کمپنی لیٹی ٹیوڈ ایئر ایمبولینس کے پرواز آپریشنز کے ڈائریکٹر کلیرنس ٹوگیرٹز نے بتایا کہ طیارہ برمودا میں طبی منتقلی کیلئے گیا تھا اور اس پر کمپنی کا عملہ موجود تھا۔انہوں نے کہا کہ جب عملہ مقررہ وقت پر رابطہ نہ کرے تو تشویش ہوتی ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ بدترین صورتحال پیش آچکی ہے۔
امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق طیارے سے ہفتے کی صبح رابطہ منقطع ہوا، جس کے بعد نانٹکٹ کے ساحل کے قریب تلاش شروع کی گئی۔ امدادی ٹیموں کو سمندری حدود میں ممکنہ طور پر پانی میں گرنے والے طیارے کے آثار پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
بوسٹن لوگن بین الاقوامی ہوائی اڈے کا انتظام کرنے والی میساچوسٹس پورٹ اتھارٹی نے تصدیق کی کہ طیارہ مقررہ وقت پر بوسٹن نہیں پہنچا۔
امریکی وفاقی محکمہ ہوا بازی کے مطابق طیارے کے لیے مقامی وقت کے مطابق رات ایک بج کر 20 منٹ پر تلاش اور امداد کا نوٹس جاری کیا گیا اور طیارے کی تلاش کے لیے کوسٹ گارڈ اور امدادی رابطہ مرکز کے ساتھ رابطہ کیا گیا۔
بوسٹن کے ہوائی ٹریفک کنٹرول مرکز کی مواصلاتی ریکارڈنگ سے معلوم ہوتا ہے کہ کنٹرولرز نے طیارے سے رابطے کی کوشش کی اور بعد میں ایک دوسرے طیارے کو بھی لاپتہ گلف اسٹریم سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی، تاہم یہ واضح نہیں کہ رابطہ قائم ہوسکا یا نہیں۔
برمودا کی حکومت نے بھی طیارے کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ برمودا کے وزیر اعظم ڈیوڈ برٹ نے طیارے میں سوار تمام 6 افراد اور ان کے اہل خانہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دعا ہے کہ تمام افراد بحفاظت مل جائیں۔
طیارے کو چلانے والی کینیڈین کمپنی کے مطابق لیٹی ٹیوڈ ایئر ایمبولینس بیمار اور زخمی افراد کی طبی منتقلی کیلئے خصوصی طور پر تیار نجی طیارے استعمال کرتی ہے۔

