نئی دہلی(عرب میڈیا، بھارتی و امریکی حکام)بھارت اور امریکا نے نایاب معدنیات اور اہم دھاتوں کی فراہمی کیلئےایک نئے فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد کان کنی، پراسیسنگ، ری سائیکلنگ اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانا ہے۔
یہ معاہدہ نئی دہلی میں بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے درمیان طے پایا۔رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا چین پر نایاب معدنیات کے انحصار کو کم کرنے کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔
اہم معدنیات جیسے لیتھیم، نکل، کوبالٹ اور نایاب ارضی عناصر جدید ٹیکنالوجی، بیٹریوں، سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت، برقی گاڑیوں اور دفاعی صنعت میں استعمال ہوتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت چین دنیا کی تقریباً 60 فیصد نایاب معدنیات کا مالک ہے جبکہ 90 فیصد عالمی پراسیسنگ پر بھی اسی کا کنٹرول ہے، جس کے باعث امریکا اور دیگر ممالک متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔بھارت نے 2023 میں 30 اہم معدنیات کی فہرست جاری کی تھی، جبکہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 13.15 ملین ٹن مونازائٹ کے ذخائر موجود ہیں جن میں 7.23 ملین ٹن نایاب ارضی آکسائیڈز شامل ہیں۔
بھارتی حکومت نے اڑیسہ، کیرالہ، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو میں “ریئر ارتھ کوریڈورز” کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے، جہاں کان کنی، تحقیق اور جدید صنعتی آلات کی تیاری کو فروغ دیا جائے گا۔دوسری جانب کواڈ ممالک—امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا—نے بھی اہم معدنیات کی سپلائی چین مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ منصوبہ شروع کیا ہے، جس کے تحت 20 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

