اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ہماری ریڈ لائن ہے، ہم جنگ نہیں بلکہ امن چاہتے ہیں، بھارت راہ راست پر نہ آیا تو اسے براہِ راست جواب دیا جائے گا، پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم خطے میں استحکام کی ضمانت بن چکے ہیں۔
وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کی شب قومی اتحاد، وحدت، یکجہتی اور دفاع وطن کے عزم کی علامت یادگار فتح کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یادگار فتح کا افتتاح کیا۔
تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، مسلح افواج کی قیادت، سروسز چیفس، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، وفاقی وزرا، غیر ملکی سفارت کار، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے گورنرز، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، ارکان پارلیمنٹ اور بڑی تعداد میں سول و عسکری حکام شریک تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم کو جشن آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہیں جس نے ہمیں آزاد وطن سے نوازا۔ انہوں نے معرکہ حق میں عظیم کامیابی پر قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کا غرور خاک میں ملا دیا، یہ معرکہ تاریخ کا ناقابل فراموش باب ہے۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کی کامیابی میں پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہان کی قیادت میں افواج پاکستان کا کردار لائق تحسین ہے۔ 8 ماہ کے قلیل عرصے میں یادگار فتح کی شاندار تعمیر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ذاتی دلچسپی کا نتیجہ ہے، یہ یادگار قومی اتحاد کی علامت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرکے خود کو امن کا دشمن ثابت کیا ہے۔ پاکستان جنگ نہیں چاہتا اور چاہتا ہے کہ دنیا نئے تنازعات سے محفوظ رہے، تاہم پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ہماری ریڈ لائن ہے۔ اگر بھارت راہ راست پر نہ آیا تو اسے براہ راست جواب دیا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ نئی نسل کو ترقی کے نئے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے، معاشی ترقی کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا اور نئی نسل کیلئے ترقی کے دروازے کھولنا ہوں گے۔ انسانی وسائل کو ترقی دے کر ترقی و خوشحالی کے نئے دور کا آغاز کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک تبدیلی سیاست اور معیشت کے میدان میں آ رہی ہے جبکہ دوسری تبدیلی اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت نے پیدا کی ہے۔ نئی دنیا میں جینے کے طور طریقے بھی نئے ہیں، آج کی دنیا میں وہی قوم زندہ رہے گی جو مصنوعی ذہانت اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے ساتھ جینے کا ہنر جانتی ہوگی، ہمیں ان تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ایران امریکا جنگ کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کیا، اس سلسلے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تاریخی کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ سال برادر اسلامی ملک سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کیا، حال ہی میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے، یہ معاہدہ عالم اسلام کیلئے امن کی نوید اور دنیا میں استحکام کی علامت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ چین اور پاکستان کی دوستی ہمالیہ سے بلند اور چٹان سے زیادہ مضبوط ہے، چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا ہے۔
انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں صدر ٹرمپ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے سعودی عرب، قطر، کویت، ترکیہ، آذربائیجان اور دیگر برادر اسلامی ممالک کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مزید پھلتے پھولتے رہیں گے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ جنگ کی طرح امن کے وقت میں بھی قوم اتحاد کا مظاہرہ کرے، ہم سب پاکستان کے وارث ہیں، اختلافات کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا جبکہ افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ بننے سے فوری طور پر روکے۔
وزیراعظم نے مکہ معاہدے کو مشرق وسطیٰ میں امن کی علامت قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاک بھارت جنگ بندی سے لاکھوں جانیں بچیں۔

